رسائی کے لنکس

سعودی عرب کے لیے 15 ارب ڈالر کے امریکی میزائل دفاعی نظام کی منظوری


فائل

امریکہ کے محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو تھاڈ میزائل دفاعی سسٹم کی ممکنہ فروخت کی منطوری دی ہے جس کی قیمت اندازاً 15 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔

محکمہ دفاع کے مطابق یہ فیصلہ سعودی عرب کو درپیش علاقائی بشمول ایران کے خطرے کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

اس منظوری کے بعد سعودی عرب امریکہ سے 44 'ٹرمینل ہائی آلٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس' یعنی تھاڈ لانچرز اور 360 میزائل کے علاوہ فائر کنٹرول اسٹیشنز اور ریڈار خرید سکے گا۔

پینٹاگان کے دفاعی تعاون کی ایجنسی نے ایک بیان میں کہا کہ "اس فروخت سے امریکہ کی قومی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کو بڑھانے اور خطے میں ایران اور دیگر خطرات کے پیش نظر اور ایک طویل عرصے کے لیے سعودی عرب اور خلیج کو سیکورٹی فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔"

سعودی عرب اور امریکہ کے مشرق وسطیٰ میں ایران کے جارحانہ طرزعمل پر شدید تحفظات ہیں۔

ایران بھی بیلسٹک پروگرام کا حامل ہے جس کا شمار مشرق وسطیٰ کے بڑے پروگرام میں ہوتا ہے جسے وہ بنیادی طور پر سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دیگر حریف ملکوں اور امریکہ سے اپنے دفاع کے لیے ضروری خیال کرتا ہے۔

تھاڈ میزائل نظام بیلسٹک میزائل کے حملوں کا دفاع کرنے کے لیے نصب کیے جاتے ہیں۔

سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی چینل 'العربیہ' نے جمعرات کو ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ سعودی عر ب نے روسی ایس 400 زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نظام خریدنے پر بھی اتفاق کیا ہے جس کے بارے میں اس وقت اعلان کیا گیا ہے جب سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے روس کا دورہ کیا جو کسی بھی سعودی فرمانروا کی طرف سے روس کا پہلا دورہ ہے۔

تھاڈ میزائل دفاعی نظام امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن بناتی ہے اور اس نظام کو نصب کرنے کے حوالے سے رے تھیان نامی کمپنی کا بھی اہم کردار ہے۔

شمالی کوریا کے کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے دفاع کرنے لیے امریکہ نے رواں سال جنوبی کوریا میں تھاڈ دفاعی نظام کو نصب کیا تھا جس پر چین نے یہ کہتے ہوئے شدید تنقید کی کہ یہ اس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG