رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کا چین سے سائبر حملوں کی تحقیقات کا مطالبہ


فائل

جمعہ کو امریکی محکمہٴخارجہ نے چین سے یہ درخواست ان اطلاعات کے بعد کی کہ بیرون ملک ہوسٹ انٹرنیٹ میں مداخلت کرکے وہاں سے امریکی ویب سائٹس کو نشانہ بنایا جاتا ہے

امریکہ نے چین سے کہا ہے کہ اس کے شہروں کو نشانہ بنانے والے سائبر حملوں کی تحقیقات کی جائے۔

امریکی محکمہٴخارجہ نے جمعے کے دِن چین سے یہ درخواست ان اطلاعات کے بعد کی کہ بیرون ملک ہوسٹ انٹرنیٹ میں مداخلت کرکے وہاں سے امریکی ویب سائٹس کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

بقول ترجمان، جیف رتھکے، ’ہمیں ان اطلاعات پر تشویش ہے کہ چین نے نئی سائبر صلاحیت حاصل کی ہے جسے استعمال کرتے ہوئے وہ بیرون ملک کسی بھی انٹرنیٹ مواد تک رسائی حاصل کرکے، اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرسکتا ہے‘۔

جیف رتھکے کا کہنا تھا کہ یہ سائبر حملے انٹرنیشنل ویب ٹریفک کو چین کی سب سے بڑی ویب سروس کمپنی کے حق میں اثرانداز ہوتے ہیں، اور اسے پراگندہ ٹریفک میں تبدیل کرکے اس کا رخ امریکہ کی جانب کردیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ نے چینی حکام سے کہا ہے کہ وہ ان سائبر حملوں کی تحقیقات کرے اور اس کی رپورٹ انھیں فراہم کرے۔

چینی حکومت مسلسل ان اطلاعات کو مسترد کرتی رہی ہے۔ واضح رہے کہ چین کا ’گریٹ کینن‘‘ سائبر حملوں کا سب سے بڑا مرکز ہے جو انفرادی آئی پی ایڈریس سے آنے یا اس کی جانب جانے والی ٹریفک کو ہائی جیک کرتا ہے اور کسی بھی غیر ملکی کمپیوٹر کو ٹارگیٹ کرکے اس کے ذریعہ چینی ویب سائٹ سے رابطے میں آ سکتا ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی رسرچ گروپ کے تجزیہ نگار سیٹیزن لیب ٹورنٹو کے جسٹن ڈبلو کلرک جو کہ سائلنس سائبر سیکورٹی فرم کے سینئر سیکورٹی رسرچر بھی ہیں، دسمبر میں سونی پیکچرز کو ہائک کئے جانے کے بعد کہتے ہیں کہ ’گریٹ کنن‘ منتقلی کا ذریعہ ہے جو کہ چند بڑے سائبر اسلحے میں شمار کیا جاتا ہے۔، یہ ذریعہ چین میں عام ہے اور اس کا استعمال کرنے والا ہر فرد حکومت کی جانب سے تیار کیا گیا شخص ہوسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG