رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کا پاکستان سے ریڈیو مشال کی نشریات بحال کرنے کا مطالبہ


مشال امریکی ادارے 'ریڈیو فری یورپ / ریڈیو لبرٹی' کی پشتو سروس کا ریڈیو اسٹیشن ہے جسے کانگریس کی جانب سے فنڈنگ ملتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے اس بارے میں پاکستان کو اپنے تحفظات پہنچا دیے ہیں اور اسلام آباد پر زور دیا ہے کہ وہ فوری اور واضح طور پر دفاتر کی بندش کا فیصلہ واپس لے اور ریڈیو مشال کی نشریات اور آپریشنز بحال کرے۔

امریکہ نے پاکستان سے پشتو زبان کے ریڈیو چینل 'مشال' کی نشریات بحال کعنے اور دفاتر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے جنہیں پاکستانی حکام نے "ملکی مفادات کے خلاف" پروگرام نشر کرنے کے الزام پر گزشتہ ہفتے بند کردیا تھا۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان ہیتھر نوارٹ نے جمعرات کو واشنگٹن ڈی سی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو پاکستان کی وزارتِ داخلہ کے اس فیصلے پر شدید تحفظات ہیں جس کے تحت 19 جنوری کو اسلام آباد میں واقع ریڈیو فری یورپ، ریڈیو لبرٹی اور ریڈیو مشال کے دفتر بند کردیے گئے تھے۔

ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے اس بارے میں پاکستان کو اپنے تحفظات پہنچا دیے ہیں اور اسلام آباد پر زور دیا ہے کہ وہ فوری اور واضح طور پر دفاتر کی بندش کا فیصلہ واپس لے اور ریڈیو مشال کی نشریات اور آپریشنز بحال کرے۔

مشال امریکی ادارے 'ریڈیو فری یورپ / ریڈیو لبرٹی' کی پشتو سروس کا ریڈیو اسٹیشن ہے جسے کانگریس کی جانب سے فنڈنگ ملتی ہے۔

ریڈیو فری یورپ اور ریڈیو لبرٹی نے اس بارے میں اپنے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اسلام آباد میں واقع دفتر کی بندش کے بعد اس کے عملے کے ارکان پر حکام دباؤ ڈال رہے ہیں۔

26 جنوری کو ریڈیو فری یورپ اور ریڈیو لبرٹی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں صدر تھامس کینٹ نے کہا ہے کہ ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ پاکستانی حکام مشال ریڈیو کے عملے کے ارکان سے ان کے ادارے کے خلاف زبردستی بیان حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ریڈیو مشال پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں کے لیے اپنی نشریات پیش کرتا ہے اور ادارے کا موقف ہے کہ اس کی نشریات ان علاقوں میں شدت پسندوں کی جانب سے کیے جانے والے پروپیگنڈے کا توڑ ہیں۔

پاکستانی حکام نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں واقع ریڈیو مشال کا بیورو دفتر بند کردیا تھا جب کہ اس کی نشریات پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔

پاکستان حکام نے یہ پابندی خفیہ ادارے 'آئی ایس آئی' کی مبینہ سفارش پر عائد کی تھی جس نے ریڈیو مشال کے پروگرامات کو پاکستانی مفادات کے خلاف اور "دشمن ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی کے ایجنڈے کے مطابق" قرار دیا تھا۔

تاہم ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی کے صدر تھامس کینٹ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریڈیو مشال کسی انٹیلی جنس ایجنسی یا حکومت کے ایجنڈے پر عمل نہیں کرتا۔

دریں اثنا پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ریڈیو مشال متعلقہ محکموں سے لائسنس لیے بغیر کام کر رہا تھا جس کی بنیاد پر وزارتِ داخلہ نے اس کی بندش کا فیصلہ کیا۔

جمعرات کو معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے ریڈیو مشال کی بندش سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ پاکستان ملکی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق آزادیٔ اظہار کا احترام کرتا ہے اور پاکستان میں بڑی تعداد میں نجی ٹیلی ویژن چینلز اور ریڈیو اسٹیشنز کام کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG