رسائی کے لنکس

بھرارا کو سابق امریکی صدر اوباما نے 2009ء میں تعینات کیا تھا۔ اس دوران وہ ڈیموکریٹ اور ریپبلکنز کے متعدد ریاستی قانون سازوں کی طرف سے کی گئی بدعنوانی کے مقدمات میں عدالت میں کامیابی سے پیش ہوتے رہے۔

بدعنوانی کے خلاف ایک بلند آہنگ امریکی وکیل استغاثہ نے اعلان کیا ہے کہ مستعفی ہونے سے انکار کرنے پر انھیں اپنے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

48 سالہ پریت بھرارا نے ہفتہ کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انکشاف کیا۔ اس سے قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ اٹارنی جنرل جیف سیشنز کی طرف سے کہا گیا تھا کہ سابق صدر براک اوباما کے دور کے تمام وکلا سرکاری عہدے چھوڑ دیں۔

اپنی ٹوئٹ میں بھرارا کا کہنا تھا کہ "میں نے استعفیٰ نہیں دیا۔ کچھ دیر پہلے مجھے برطرف کر دیا گیا۔ بطور امریکی سرکاری وکیل فرائض کی انجام دہی میری پیشہ ورانہ زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہے گی۔"

تقریباً تین ماہ قبل ہی اس وقت کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھرارا سے مینہاٹن میں امریکی وکیل برقرار رہنے کا کہا تھا اور ٹرمپ ٹاور میں ہونے والی ملاقات کے بھرارا نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ انھوں نے ٹرمپ کی یہ بات مان لی ہے۔

بھرارا کو سابق امریکی صدر اوباما نے 2009ء میں تعینات کیا تھا۔ اس دوران وہ ڈیموکریٹ اور ریپبلکنز کے متعدد ریاستی قانون سازوں کی طرف سے کی گئی بدعنوانی کے مقدمات میں عدالت میں کامیابی سے پیش ہوتے رہے۔

حال ہی میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ بھرارا کا دفتر فاکس نیوز کے ملازمین کی طرف سے چینل کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات کے قضیے کو حل کیے جانے کی تحقیقات بھی کر رہا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG