رسائی کے لنکس

logo-print

یہودی عبادت گاہ میں فائرنگ ’’نفرت پر مبنی جرم‘‘ قرار


پٹس برگ سناگاگ میں شوٹنگ کا شکار ہونے والوں کے احترام میں شہریوں نے شمعیں روشن کیں

امریکی شہر پٹس برگ کے سناگاگ میں اتوار کے روز ہونے والے شوٹنگ کے واقعے کی تحقیقات کرنے والے اہلکاروں نے اسے ’نفرت پر مبنی جرم‘ قرار دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ شوٹر نے یہود مخالف نعرے لگاتے ہوئے عبادت کرنے والے یہودیوں پر فائر کھول دیا تھا۔ شوٹنگ کے اس واقعے میں 11 یہودی عبادتگزار ہلاک اور چھ دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

شوٹنگ کا مبینہ ملزم رابرٹ گریگری بوئرز AR-15 حملہ آور رائفل اور تین دستی بموں سے مسلح تھا اور وہ وہاں موجود تمام یہودیوں کو ہلاک کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس واقعے کے سلسلے میں درج کی گئی رپورٹ کے مطابق حملہ آور شخص کا کہنا تھا کہ ’’یہودی اُس کے لوگوں کا قتل عام کر رہے تھے۔‘‘ بتایا جاتا ہے کہ حملہ آور کا خیال تھا کہ غیر ملکیوں کو امریکہ داخل ہونے میں مدد دینے والی یہودی ریفیوجی ایجنسی نے غیر یہودی امریکیوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔

46 سالہ حملہ آور نے اس حملے سے چند منٹ پہلے ایک آن لائن پیغام میں کہا تھا کہ یہودی تارکین وطن کے وطن کو مدد فراہم کرنے والے مذکورہ ایجنسی ایسے لوگوں کو امریکہ میں داخل کرنا پسند کرتی ہے جو یہاں کے لوگوں کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ اُس نے پیغام میں مزید کہا کہ وہ اپنے لوگوں کا قتل عام ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔ لہذا وہ اندر جا رہا ہے۔

ویسٹرن پین سلوانیا میں امریکی اٹارنی سکاٹ بریڈی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی ’نفرت پر مبنی‘ واقعے کے طور پر تحقیقات کر رہے ہیں۔

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 8 مرد اور تین خواتین شامل ہیں جن کی عمریں 54 سے 97 سال کے درمیان تھیں جبکہ زخمی ہونے والے چھ افراد میں چار پولیس افسر بھی شامل ہیں۔

حملہ آور بوئرز کو گولی لگنے کے بعد ہسپتال میں داخل کر دیا گیا تھا۔ اُس پر مجرمانہ قتل عام کے 11 ، قتل کے ارادے سے حملہ کرنے کے چھ اور نسلی امتیاز برتنے کے 13 الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG