رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ بنگلہ دیش تعلقات کو مزید فروغ دینے کا عزم


جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فروغ پاتے ہوئے باہمی تعلقات مشترکہ اقدار اور یکساں اہداف کے غماز ہیں، جو دونوں ملکوں اور اُن کے عوام کے بہترین مفاد میں ہیں

تیسرا امریکہ بنگلہ دیش پارٹنرشپ ڈائلاگ 28 اور 29 اکتوبر کو واشنگٹن میں منعقد ہوا، جس میں امریکی سیاسی امور کی معاون وزیر، وینڈی شرمن اور بنگلہ دیش کے سکریٹری خارجہ شاہدالحق نے اپنے اپنے ملکوں کی نمائندگی کی۔

بدھ کی شام جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں وفود کے سربراہان نے دونوں ملکوں کے مابین مضبوط اور مزید فروغ پاتے ہوئے تعلقات کی نشاندہی کرتے ہوئے، اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ تعلقات مشترکہ اقدار اور یکساں اہداف کے غماز ہیں، جو دونوں ملکوں اور اُن کے عوام کے بہترین مفاد میں ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان ساجھے داری کے مکالمے کا آغاز سنہ 2012 میں ہوا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ورکنگ گروپوں کے 28 اکتوبر کے اجلاسوں میں باہمی اور علاقائی مفاد سے متعلق وسیع تر امور پر گفتگو ہوئی، جن میں ترقیات اور بہتر عمل داری، تجارت اور سرمایہ کاری اور سکیورٹی تعاون پر گفتگو شامل تھی۔ 29 اکتوبر کے اجلاسوں کے دوران، وفود کے معاون سربراہوں نے اب تک حاصل ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا، جن میں باہمی، علاقائی اور بین الاقوامی ترجیحات کے شعبہ جات کی نشاندہی کی گئی، جن میں باہمی مراسم کو مزید گہرا کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا، جن میں قابلِ تائید تعاون، انسداد دہشت گردی، ترک وطن اور موسمیاتی تبدیلی کے عنوان شامل ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ بنگلہ دیش کے ملبوسات کی تیاری کے شعبے میں محنت کشوں کے حالات کار میں بہتری لانے، اُنھیں تحفظ فراہم کرنے اور اُن کے حقوق کی ضمانت سے متعلق اقدامات کو فروغ دینے پر زور دیتا رہا ہے۔

اس سلسلے میں، 20 اکتوبر کو ایک اجلاس ہوا جس میں بنگلہ دیش، یورپی یونین، امریکہ اور محنت کی بین الاقوامی ادارے کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں دونوں ملکوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بنگلہ دیش محنت کشوں کے حالات کار اور حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق، ملبوسات سازی کے سلسلے میں، امریکہ نے بنگلہ دیش کی طرف سے معائنہ کاروں کے ابتدائی آن لائن ڈیٹابیس کے قیام کے اقدام کو سراہا، جس میں محنت کشوں کے ادارے کی استعداد اور وسائل میں بہتری لانے کے ضمن میں خاصی جستجو سامنے آئی ہے۔

محنت کشوں کے تحفظ اور حقوق کو یقینی بنانے کے حوالے سے، امریکہ نے بنگلہ دیش کو ایک کروڑ ڈالر کی امداد فراہم کی تھی۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ محنت کشوں کے تحفظ کے کام کے ضمن میں، امریکہ کا بین الاقوامی ترقیات کا ادارہ (یو ایس ایڈ) 50 لاکھ ڈالر کی اضافی امدادی رقم فراہم کرے گا۔

ساتھ ہی، امریکہ نے اِس عزم کا اظہار کیا ہے کہ بنگلہ دیش کی طرف سے انسانی اسمگلنگ کو روکنے، خصوصی طور پر بیرون ملک محنت کی منڈی میں مؤثر اقدام کرنے کے لیے، جاری کوششوں کی حمایت کی جائے گی۔

دونوں ملکوں نے دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے، بنگلہ دیش میں انسداد دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے خاتمے سے متعلق مؤثر اقدام کرنے پر زور دیا۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دسمبر میں ڈھاکہ میں ’جنوبی ایشیا علاقائی ورکشاپ‘ کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں حکومت بنگلہ دیش کو امریکی سفارت خانے اور محکمہٴخارجہ کا تعاون حاصل ہوگا۔ ورکشاپ میں، پُرتشدد انتہا پسندی اور دہشت گردی کی مالی اعانت روکنے کے ضمن میں اقدام کرنے پر غور کیا جائے گا۔

دونوں ملکوں نے اس بات پر رضامندی کا اظہار کیا کہ پارٹنرشپ ڈائلاگ کا چوتھا اجلاس 2015ء میں ڈھاکہ میں منعقد ہوگا۔

XS
SM
MD
LG