رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا نے یورینیم کی افزودگی بڑھادی: امریکی حکام کو شبہ


شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان ایک فوجی تنصیب کا دورہ کر رہے ہیں۔

ایک امریکی اہلکار نے 'این بی سی نیوز' سے بات کرتے ہوئے یہ تک کہا کہ اس بارے میں ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ شمالی کوریا امریکہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکی حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ شمالی کوریا نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی جوہری ہتھیاروں کے ایندھن کی تیاری میں اضافہ کردیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے 'این بی سی نیوز' نے جمعے کو اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کے تازہ ترین تجزیوں سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ دعوے غلط ثابت ہوگئے ہیں جن اکا اظہار انہوں نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے ساتھ ملاقات کے بعد کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے 12 جون کو سنگاپور میں ہونے والی ملاقات کے بعد کہا تھا کہ کم جونگ ان شمالی کوریا کا جوہری پروگرام ختم کرنے کے بارے میں سنجیدہ اور پرعزم ہیں اور اب امریکہ کو شمالی کوریا سے کوئی جوہری خطرہ لاحق نہیں رہا۔

'این بی سی نیوز' نے اپنی رپورٹ میں پانچ امریکی اہلکاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ انٹیلی جنس اطلاعات سے ظاہر ہوا ہے کہ شمالی کوریا نے حالیہ چند ماہ کے دوران یورینیم کی افزودگی کا عمل تیز کردیا ہے اور وہ یہ کام امریکہ کے ساتھ رابطوں کے دوران بھی کر رہا تھا۔

افزودہ یورینیم جوہری بموں کے ایندھن کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔

امریکی ادارے کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ یونگ بیان کے علاقے میں یورینیم کی افزودگی کے لیے معروف تنصیب کے علاوہ شمالی کوریا کی ایک سے زائد ایسی خفیہ تنصیبات موجود ہیں جہاں وہ یورینیم افزودہ کر رہا ہے۔

ایک امریکی اہلکار نے 'این بی سی نیوز' سے بات کرتے ہوئے یہ تک کہا کہ اس بارے میں ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ شمالی کوریا امریکہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکی خفیہ ادارے 'سی آئی اے' نے 'این بی سی نیوز' کی رپورٹ پر ردِ عمل دینے سے انکار کردیا ہے۔محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کرسکتا کیوں کہ وہ انٹیلی جنس معاملات پر ردِ عمل دینے کا مجاز نہیں۔

'این بی سی' کی جانب سے رپورٹ پر ردِ عمل کے لیے وائٹ ہاؤس سے بھی رابطہ کیا گیا تھا لیکن وائٹ ہاؤس نے چینل کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے بعد امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں شمالی کوریا کی سنجیدگی پر نئے سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔

امریکی حکام اور خود صدر ٹرمپ کا مؤقف رہا ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا محور اس کا جوہری پروگرام ہے جسے ترک کرنے پر وہ پیانگ یانگ کو راضی کرچکے ہیں۔

'این بی سی' سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینئر امریکی انٹیلی جنس افسر کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے قبل شمالی کوریا کی جانب سے اپنے جوہری اور میزائل تجربات روکنے کا فیصلہ خاصا غیر متوقع تھا۔

لیکن افسر کے بقول اس معاملے پر امریکہ کو دھوکہ دیا گیا اور شمالی کوریا نے اپنی کئی تنصیبات میں بہت سے ہتھیار اور میزائلوں پر کام جاری رکھا ہوا ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ شمالی کوریا امریکی نشریاتی ادارے کے اس دعوے پر کیا ردِ عمل دے گا اور آیا ان مبینہ انٹیلی جنس رپورٹوں کے بعد ٹرمپ حکومت کی پیانگ یانگ سے متعلق پالیسی میں کوئی تبدیلی آئے گی یا نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG