رسائی کے لنکس

logo-print

شہری حقوق کی پچاسویں سالگرہ، ہزاروں افراد کی شرکت متوقع


سنہ 1963 کا ’واشنگٹن مارچ‘ ایک ایسے وقت ہوا تھا جب نسلی بنیاد پر بے چینی عروج پر تھی، اورامریکہ اس بات کا کوشاں تھا کہ ایسے قوانین جِن کے باعث ایک طویل عرصے سے افریقی امریکیوں کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے اُنھیں ختم ہونا چاہیئے۔

ہفتے کے روز واشنگٹن میں ہزاروں لوگ ایک ریلی میں شرکت کریں گے، جو 1963ء کے تاریخی ’شہری حقوق کے مظاہرے ‘کی یاد میں نکالی جائے گی، جسے ’مارچ آن واشنگٹن‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اِس تاریخی مارچ کی قیادت ریورنڈ مارٹن لوتھر کنگ جونئیر نے کی تھی، جب اُنھوں نے اپنی تقریر میں مشہور الفاظ ’آئی ہیو اے ڈریم‘ کہے تھے، جس میں ڈھائی لاکھ افراد نے شرکت کی تھی، جو ملکی تاریخ میں مساوی حقوق کے حصول کا سب سے بڑا مظاہرہ تھا اور امریکہ کےلیے ایک فیصلہ کُن لمحے کا درجہ رکھتا ہے۔

تقریباً پچاس برس بعد ہونے والی اِس ریلی کو خطاب کرنے والوں میں ایک اور افریقی امریکی داعی، ریورنڈ الشارپ ٹن کے علاوہ کنگ کے بیٹے، مارٹن لوتھر کنگ سوئم شامل ہوں گے۔

اس سلسلے کی دوسری ریلی بدھ، 28اگست کو برسی کے موقع پر نکالی جائے گی، جس سے خطاب کرنے والوں میں ملک کے پہلے افریقی امریکی صدر، براک اوباما کے علاوہ سابق صدور جِمی کارٹر اور بِل کلنٹن شامل ہوں گے۔

سنہ 1963کا ’واشنگٹن مارچ‘ ایک ایسے وقت ہوا تھا ، جب نسلی بنیاد پر بے چینی عروج پر تھی، اورجب امریکہ اس بات کا کوشاں تھا کہ ایسے قوانین جن کے باعث ایک طویل عرصے سے افریقی امریکیوں کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے، ختم ہوجانا چاہیئے۔

دراصل، 1950ء کی دہائی کے وسط میں ملک کا دھیان شہری حقوق کی تحریک پر مرکوز ہوا، جب ایک سیاہ فام مذہبی راہنما، کنگ نے الاباما کے شہر منٹگمری میں پبلک بسوں میں نسلی بنیاد پر تفریق برتنے کے خلاف کامیاب تحریک کی قیادت کی۔

کنگ نے ملک کے جنوبی علاقے میں نسلی امتیاز کے خلاف، اور سیاہ فاموں کے مساوی حقوق اور اُن کے رائے دہی کے حقوق تسلیم کیے جانے کےلیےعدم تشدد کی بنیاد پر کامیاب تحریک چلائی۔

سنہ 1964میں کنگ کو امن کا عالمی تمغہ تفویض کیا گیا، اور صدر لینڈن جانسن نے شہری حقوق کے قانون پر دستخط کیے جن میں عوامی مقامات پر نسلی امتیاز کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔

کنگ کو سنہ 1968میں ریاست ٹینیسی کےشہر میمفس میں قتل کیا گیا، جہاں وہ صفائی ستھرائی کا کام کرنے والوں کی ہڑتال کی حمایت کر رہے تھے۔
XS
SM
MD
LG