رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: فوج کی سینٹرل کمانڈ کے ٹوئٹر، یوٹیوب اکاؤنٹ ہیک


ہیکرز نے کئی ایسے ٹوئٹ بھی کیے ہیں جن میں درجنوں امریکی فوجی افسران کے ٹیلی فون نمبر، ای میل ایڈریس اور رہائشی پتے موجود ہیں۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے وابستگی کا دعویٰ کرنے والے ہیکرز نے امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کا 'ٹوئٹر' اور 'یوٹیوب' اکاؤنٹ ہیک کرلیا ہے۔

ہیکرز نے 'سینٹ کام' کے 'ٹوئٹر' اکاؤنٹ کو ہیک کرنے کے بعد اس پر امریکی فوجیوں کے لیے ان الفاظ میں پیغام چھوڑا ہے، "ہم آرہے ہیں، محتاط رہو"۔

ہیکرز نے سینٹرل کمانڈ کے اکاؤنٹ سے تصاویر پر مشتمل کئی ایسے ٹوئٹ بھی کیے ہیں جن میں درجنوں امریکی فوجی افسران کے ٹیلی فون نمبر، ای میل ایڈریس اور رہائشی پتے موجود ہیں۔

سینٹرل کمانڈ کے حکام نے 'وائس آف امریکہ' سے گفتگو میں 'ٹوئٹر' اور 'یوٹیوب' اکاؤنٹ پر ہیکرز کا حملہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ "معاملے سے نبٹنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔"

ہیکرز نے سینٹرل کمانڈ کے 'ٹوئٹر' اکاؤنٹ سے چین اور شمالی کوریا کے فوجی نقشے بھی جاری کیے ہیں۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ آیا یہ نقشے حساس نوعیت کے ہیں یا نہیں۔

ہیکنگ حملے کے نصف گھنٹے کے اندر ہی 'سینٹ کام' کے 'ٹوئٹر' اور 'یوٹیوب' اکاؤنٹ کو بند کردیا گیا تھا جو تاحال بحال نہیں ہوئے ہیں۔

'وہائٹ ہاؤس' کے ترجمان جوش ارنسٹ نے کہا ہے کہ اوباما انتظامیہ ہیکرز کے ان حملوں کا سنجیدہ مسئلہ سمجھتی ہے اور معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔

پیر کو واشنگٹن میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے اس تاثر کی نفی کی کہ امریکی فوج کے آن لائن اکاوئنٹس ہیک ہونا کوئی بڑا مسئلہ ہے۔

ترجمان نے کہا کہ 'ٹوئٹر' اکاؤنٹ ہیک ہونے اور ہیکرز کے فوج کے ڈیٹا بیس میں داخل ہونے میں بڑا فرق ہے جسے ملحوظ رکھنا چاہیے۔

'دولتِ اسلامیہ' سے منسلک ہونے کا دعویٰ کرنے والے ہیکرز کے گروہ اس سے قبل امریکی ریاستوں میری لینڈ اور نیو میکسیکو کے کئی اخباری اور نشریاتی اداروں کے 'ٹوئٹر' اکاؤنٹس بھی ہیک کرچکے ہیں۔

امریکی فوج کی 'سینٹرل کمانڈ' کا مرکزی دفتر ریاست فلوریڈا کے 'میک ڈِل ایئر فورس بیس' میں واقع ہے اور امریکی فوج کی یہ خصوصی ٹاسک فورس عراق اور افغانستان سمیت مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور وسطی ایشیا کے 20 سے زائد ممالک میں امریکی فوجی آپریشنز کی نگران ہے۔

عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ کی قیادت میں جاری اتحادی ملکوں کی فضائی کارروائیاں بھی 'سینٹرل کمانڈ' ہی کے دائرۂ اختیار میں آتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG