رسائی کے لنکس

logo-print

نیو یارک: ایرانی حکومت کی ناقد صحافی کے اغوا کی کوشش، چار ملزمان پر فردِ جرم عائد


مسیح علی نژاد کی ٹوئٹر پر شائع تصویر

ایران نے نیو یارک میں ایرانی نژاد صحافی اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن کے اغوا کی کوشش میں ملوث ہونے کے امریکی الزامات کو مضحکہ خیز اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادے نے بدھ کے روز ایرانی حکومت کی ناقد صحافی مسیح علی نژاد کے اغوا کی کوشش کے امریکی الزامات کے جواب میں کہا، "امریکی حکومت کا یہ نیا دعویٰ بے بنیاد اور مضحکہ خیز ہے اور اس قابل بھی نہیں کہ واقعتاً اس کا جواب دیا جائے۔"

خبر رساں ادارے، رائٹرز کے مطابق منگل کے روز امریکی محکمہ انصاف نے ایک فردِ جرم جاری کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی پراسیکیوٹرز نے ایرانی انٹیلی جنس کے چار مبینہ ایرانی اہلکاروں کے خلاف اغوا کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ وائس آف امریکہ کی فارسی سروس کے مطابق، اس واقعے میں کل پانچ افراد ملوث پائے گئے ہیں۔

امریکی محکمہ انصاف کے بیان کے مطابق، بروکلین کی صحافی، مصنفہ اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ایرانی حکومت کے قوانین میں تبدیلی کے لئے ایران اور دنیا بھر میں عوامی رائے عامہ کو منظم کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔

مسیح علی نژاد جن کا پیدائشی نام معصومہ علی نژاد قمی ہے۔ وہ وائس آف امریکہ کی فارسی سروس کے ٹی وی پروگرام کی میزبان بھی ہیں اور ایرانی حکومت پر کھلے بندوں تنقید بھی کرتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اغوا کے اس منصوبے کا ہدف تھیں جس کا انکشاف امریکہ نے کیا ہے۔

منگل کے روز ایک ریکارڈ شدہ وڈیو پیغام میں ایرانی نژاد امریکی صحافی مسیح علی نژاد نے کہا کہ فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ایجنٹوں نے انہیں بتایا تھا کہ ایرانی حکومت چاہتی ہے کہ نہ صرف ان کا وجود نہ رہے بلکہ ان کے انسٹاگرام، ٹیلی گرام، فیس بک اور واٹس ایپ کے اکاؤنٹ بھی ختم کر دیے جائیں۔

علی نژاد نے، جو نیویارک شہر کے بروکلین بورو میں رہتی ہیں، بعد ازاں اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی تصدیق کی کہ اغوا کی کوشش کا ہدف وہی تھیں۔

منگل کے روز علی نژاد نے اپنے ویڈیو پیغام میں مزید بتایا کہ ایف بی آئی نے انہیں ان کے اپنے تحفظ کی خاطر امریکہ چھوڑنے سے منع کیا تھا۔

امریکی محکمہ انصاف نے جو ایف بی آئی کا نگران ہے، علی نژاد کی ایف بی آئی کے ساتھ حالیہ گفتگو کے بارے میں ان کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

منگل کے روز ٹوئٹر پر اپنے وڈیو پیغام میں بروکلین میں اپنے گھر سے علی نژاد نے کہا کہ گذشتہ دو ہفتے سے ان کے گھر پر حفاظت کے لئے پولیس تعینات ہے۔ وڈیو میں ان کی کھڑکی سے پولیس کی گاڑی باہر کھڑی دیکھی جا سکتی ہے۔

دو ہزار کے عشرے میں علی نژاد ایران میں ایک صحافی کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ وہ اپنے مضامین میں اکثر حکومت کی بد انتظامی اور بد عنوانی کا انکشاف کرتی تھیں یہاں تک کہ ان کا پریس پاس ان سے واپس لے لیا گیا اور انہیں گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی۔ اس وجہ سے وہ 2009 میں ملک چھوڑ کر پہلے برطانیہ اور پھر 2014 میں نیویارک میں مقیم ہو گئیں۔

ٹیبلیٹ شو کی میزبان کے طور پر علی نژاد ایران کے معاشرتی اور ثقافتی مسائل پر گفتگو کرتی رہی ہیں جن میں حکمراں شیعہ مذہبی رہنماؤں کی جانب سے خواتین کے حقوق اور آزادئ صحافت شامل ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی ان مسائل پر ان کی بھرپور مہم جاری رہی۔

وائس آف امریکہ کو اپنے اغوا کے مبینہ منصوبے کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایف بی آئی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہ امریکی سرزمین پر اغوا کی پہلی ایرانی سکیم ہے۔

امریکی محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ ایران سے تعلق رکھنے والے چار مشتبہ انٹیلی جنس کے ایجنٹ، علی رضا شاواروقی فرہانی، محمود خازین، کیا صدیقی اور امید نوری اس اغوا اور اپنے ہدف کو زبردستی ایران لے جانے کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔ البتہ ان چاروں میں سے کسی کو بھی حراست میں نہیں لیا گیا۔

فردِ جرم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فرہانی کی قیادت میں اس نیٹ ورک نے کیلیفورنیا کی نیلوفر بہادریفر کے ساتھ مل کر ایک پرائیویٹ انویسٹیگیٹر کی خدمات حاصل کیں جس نے جولائی 2020 اور فروری 2021 کے درمیان ان کے ہدف کے گھر کی متعدد بار نگرانی کی اور رقم کے عوض اس نگرانی کی تصاویر اور ویڈیوز انہیں منتقل کیں۔

وائس آف امریکہ کے نیو یارک بیورو سے اپنے پیغام میں علی نژاد نے بتایا ہے کہ ایف بی آئی نے انہیں پہلی مرتبہ آٹھ ماہ پہلے اس منصوبے سے آگاہ کیا تھا اور بعد میں انہیں ان کی، ان کے شوہر اور ان کے شوہر کے بچوں کی نگرانی کی وہ تصاویر بھی دکھائی تھیں جو اس پرائیویٹ انویسٹیگیٹر نے نگرانی کے دوران لی تھیں۔

اغوا کے اس منصوبے پر ردِعمل کی درخواست پر وائس آف امریکہ کو ایک ای میل میں امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت ایرانیوں کو پر امن اجتماع کی آزادی، آزادئِ تنظیم، مذہبی اور عقائد کی آزادی اور آزادئِ اظہار پر قدغن کے ذریعے ان کے انسانی حقوق دینے سے مسلسل انکار کر رہی ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ "بائیڈن انتظامیہ ایران کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتی رہے گی اور ان کے خلاف امریکہ اور ایران میں آواز اٹھانے والوں کی حمایت جاری رکھے گی۔ یہ معاملہ قانون کے نفاذ کا ہے، اس بارے میں مزید معلومات کے لئے ہم چاہیں گے کہ آپ محکمہ انصاف سے رجوع کریں۔"

امریکی محکمہ انصاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فرہانی، خزین، صدیقی اور نوری پر اغوا سے متعلق سازش، تعزیروں کی خلاف ورزی، بنک اور وائر فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بہادریفر پر ان چاروں افراد کو مبینہ طور پر مالی سہولت فراہم کرنے کے باعث متعدد الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

وائس آف امریکہ کی فارسی سروس نے عدالت کی جو دستاویزات دیکھی ہیں ان کے مطابق بہادریفر کو 29 جون کو نیویارک سے گرفتار کر کے کیلیفورنیا منتقل کیا گیا اور یکم جولائی کو پراسیکیوٹرز نے عدالت سے درخواست کی کہ مقدمے کی سماعت سے پہلے انہیں حراست میں رکھا جائے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ردِ عمل پر انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں اور ایران کے لئے امریکہ کی سخت پالیسی کے حامیوں نے ٹوئٹر پر، اسے کمزور کہتے ہوئے اس پر نکتہ چینی کی ہے۔

عبدالرحمٰن برومنڈ سنٹر نامی انسانی حقوق کے گروپ کے معاون بانی لیڈن برومنڈ نے لکھا کہ یہ امریکی سرزمین پر امریکی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے اور آزادئِ اظہار کی خلاف ورزی ہے۔ یہ ایک امریکی شہری کی جان پر حملے کے مترادف ہے اور زیادہ واضح بیان کا مستحق ہے۔

( اس آرٹیکل میں شامل معلومات وائس آف امریکہ کی فارسی سروس، امریکی محکمہ خارجہ کے لئے وائس آف امریکہ کی نامہ نگار نائکی چینگ کی رپورٹس اور خبر رساں ادارے رائٹرز سے لی گئی ہیں)

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG