رسائی کے لنکس

logo-print

'چین امریکہ پر سبقت لے جانے کی کوششوں کو تیز تر کر رہا ہے'


امریکہ کی انڈو پیسیفک کمانڈ کے لیڈر ایڈمرل فلپ ڈیوڈسن

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن اور وائٹ ہاوس کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جیک سلیون اگلے ہفتے کی 18 تاریخ کو الاسکا میں اپنے چینی ہم منصبوں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ یہ صدر جو بائیڈن کے اس سال 20 جنوری کو اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکی اور چینی حکام کا پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ ہوگا۔

واضح رہے کہ امریکہ کے ایک اعلیٰ فوجی کمانڈر نے منگل کو واشنگٹن میں کانگریس کی ایک سماعت کے دوران کہا ہے کہ چین ایسے منصوبوں پر کام تیز تر کر رہا ہے جن سے وہ دنیا کے موجودہ نظام کو اپنی منشا کے مطابق ڈھال سکے۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے جیف سیلڈن کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے ارکان کے روبرو ایک سماعت کے دوران بیان دیتے ہوئے یو ایس اِنڈو پیسیفک کمان کے کمانڈر ایڈمرل فلپ ڈیوڈسن کا کہنا تھا کہ مجھے تشویش ہے کہ چین اپنے عزائم میں تیزی لاتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر آزاد تجارت اور قواعد پر مبنی آزاد تعلقات میں امریکہ اور اس کے قائدانہ کردار کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

امریکہ مین چین کے جارحانہ رویے پر تشویش کو ئی نئی بات نہیں ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورمیں بھی امریکی عسکری اور انٹیلیجنس اہلکاروں نے بارہا چین کی فوجی سرمایہ کاری، غلط معلومات کے پھیلانے، جاسوسی اور سائبر کارروائیوں کے متعلق خبردار کیا تھا۔

چین طویل عرصے سے کہتا چلا آرہا ہے کہ وہ 2050 تک اس کردار کو ختم کر دیے گا۔ ایڈمرل ڈیوڈسن کا کہنا تھا کہ انہیں تشویش ہے کہ کہیں وہ اس ہدف کے وقت کو اور قریب نہ لے آئیں۔

ایڈمرل ڈیوڈ سن اس سال کے اختتام تک ریٹائر ہو جائیں گے۔ وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے چین کی جانب سے درپیش خطرے کے بارے میں توجہ دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

منگل کے روز انہوں نے چین کو اکیسویں صدی میں سلامتی کے لیے سب سے بڑا اور طویل عرصے تک قائم رہنے والا خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے چین کے خلاف پہلے سے اختیار کی گئی روایتی حکمت عملی کے غیر موثر ہونے کے بارے میں اپنی تنبیہات کو دہرایا۔

ان کا کہنا تھا کہ اِنڈو پیسیفک خطے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے "فوجی طاقت کا توازن نا موافق ہوتا جا رہا ہے"۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے پیشتر کہ ہماری فورسز چین کو ایک موثر جواب دینے کے قابل ہوں، اس عدم توازن کی وجہ سے، ان کے بقول، ’’ایک ایسا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے جو چین کو مزید نڈر کر دے گا کہ وہ یکطرفہ طور پر طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے، اس سے پہلے کہ امریکی افواج کوئی موثر جواب دے سکیں۔‘‘

امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ چین کی فوج بعض موقعوں پر ماضی میں اختیار کی گئی معاشی ترغیبات اور دباؤ کے ذریعے کام نکلوانے کی حکمت عملی سے مختلف راستہ اپنا رہی ہے۔

امریکہ کی انڈو پیسیفک کمانڈ کے اعلی ترین انٹیلی جنس اہلکار بحریہ کے رئیر ایڈمرل مائیکل نے گزشتہ ہفتے ایک ورچوئیل کانفرنس سے خطاب میں کہا تھا کہ "ہمارا سامنا ایک عالمی سطح کی توسیع پسند چینی فوج سے ہے، جو کسی بھی ایسی جگہ مداخلت پر تیار ہو گی جہاں چینی مفادات کو خطرات لاحق ہوں گے"۔

حکام کو خدشہ ہے کہ جوں جوں چینی اور امریکی افواج کی صلاحیت میں فرق کم ہوتا جائے گا، چین اسی حکمت عملی کو مضبوط کرتا چلا جائے گا۔

مبصرین کو توقع ہے کہ اگلے مالی سال میں چین اپنا دفاعی بجٹ 6.8 فیصد تک بڑھا دے گے۔ یہ بھی پیشین گوئی کی جا رہی ہے کہ چین کی بحریہ انڈو پیسیفک خطے میں امریکہ کے مقابلے میں کئی گنا بڑھا دی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG