رسائی کے لنکس

logo-print

چین اور امریکہ نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی خسارہ کو معقول حد تک کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ اعلامیہ واشنگٹن میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات اور امریکہ کے ان الزامات کے بعد سامنے آیا ہے کہ چین کے غیر منصفانہ تجارتی طور طریقوں کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ چین سے زیادہ اشیا خرید رہا ہے جتنی کہ واشنگٹن بیجنگ کو فروخت کر رہا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ چین نے اشیاء اور خدمات خاص طور پر زرعی اور توانائی کے آلات کے خریداری میں "بامعنی" اضافہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک بیان کے مطابق واشنگٹن اس بارے میں تفصیلات طے کرنے کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم کو چین بھیجے گا۔ بیان میں دانشورانہ املاک 'انٹلکچوئل پراپرٹی' کے حقوق کے تحفظ کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دونوں فریق"تجارتی میدان میں یکساں مقابلے کی فضا" کے حصول کے لیے مل کر کام کریں گے۔

نیویارک سے ڈیموکریٹ جماعت کے سینیٹر چک شومر نے کہا کہ بیان میں بہت کم تفصیلات بتائی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین اکثر اپنی بہت بڑی منڈی تک اس وقت رسائی دینے سے انکار ی ہے جب تک امریکی کمپنیاں چین کی تجارتی کمپنیوں کو امریکہ کے تکنیکی اور کاروباری رازوں تک رسائی نہیں دے دیتی ہیں۔

شومر نے کہا کہ ایک محدود مدت کے لیے امریکی اشیا کی خریداری اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG