رسائی کے لنکس

logo-print

چین اور امریکہ کا دوطرفہ تعاون بڑھانے کا نیا عزم


امریکہ اور چین کے صدور

صدر ژی نے مسٹر اوباما کو بتایا کہ بیجنگ اور واشنگٹن شمالی کوریا کے جوہری معاملے پر متفق ہیں کہ دونوں میں سے کوئی بھی ملک شمالی کوریا کو جوہری ریاست کے طور پر قبول نہیں کرے گا۔

امریکہ کے صدر براک اوباما اور ان کے چینی ہم منصب ژی جنپنگ نے غیر رسمی کانفرنس میں سائبر سکیورٹی، شمالی کوریا اور ماحولیاتی تبدیلی سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔

قومی سلامتی کے مشیر ٹام ڈونیلون نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں رہنماؤں اس بات پر متفق ہیں کہ سائبر سکیورٹی پر اختلافات کو دور کرنا ہی باہمی تعلقات کے ’’مستقبل کی کنجی‘‘ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پر بھی اتفاق ہوا ہے کہ شمالی کوریا کو اپنا جوہری پروگرام ترک دینا چاہیے۔

’’اگر (سائبر سکیورٹی کے معاملات) پر توجہ نہیں دی جاتی اور امریکی معلومات پر براہ راست حملے جاری رہتے ہیں تو یہ دوطرفہ جاری اقتصادی تعلقات کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔‘‘

ڈونیلون اور چین کے عہدیدار یانگ جیئچی نے کہا کہ صدر ژی نے مسٹر اوباما کو بتایا کہ بیجنگ اور واشنگٹن شمالی کوریا کے جوہری معاملے پر متفق ہیں کہ دونوں میں سے کوئی بھی ملک شمالی کوریا کو جوہری ریاست کے طور پر قبول نہیں کرے گا۔

ڈونیلون اور مسڑ یانگ نے کیلیفورنیا میں ہونے والی دو روزہ کانفرنس کے اختتام پر علیحدہ علیحدہ صحافیوں سے گفتگو کی۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ دونوں صدور نے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر بھی اتفاق کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG