رسائی کے لنکس

logo-print

چینی فوجی عزائم کے بارےمیں امریکہ کی تشویش


امریکہ کے اعلیٰ فوجی عہدے دار نے کہا ہے کہ اُنھیں چین کے فوجی عزائم پر تشویش ہے، جس میں، اُن کے بقول، بری افواج کے برعکس بحری اور فضائی طاقت بڑھانے پرزیادہ زور دیا جا رہا ہے۔

یہ بات چیرمین جوائنٹ چیفز آف اسٹاف، ایڈمرل مائیک ملن نے جنوبی کوریا میں ایک امریکی بیس پر سپاہیوں سے خطاب میں کہی۔

اُنھوں نے کہا کہ چین نے سیٹلائٹ، طیاروں، بحری جہاز شکن میزائل اور مجوزہ طیارہ بردار بیڑے جیسے ہتھیاروں میں اچھی خاصی سرمایہ کاری کی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اُن کی یہ جاننے کی جستجوکہ چین کیا کر رہا ہے اب اِس تشویش میں بدل چکی ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے۔

ملن نے مزید کہا کہ ہر ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنی افواج کو ترقی دیں، لیکن وہ چاہیں گے کہ چین کے ساتھ اُس کے مقاصد پر گفتگو کریں۔ اُنھوں نے کہا کہ بات چیت کو ممکن بنانے کے لیے ضرورت اِس بات کی ہے کہ فوج کے فوج کے ساتھ رابطے بحال ہوں۔

نوری میں تائیوان کو چھ ارب 40کروڑ ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت پر احتجاج کرتے ہوئے، چین نے امریکہ کے ساتھ ملٹری رابطے ختم کر دیے تھے۔

ملن، وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اور وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کے ساتھ جانے والے اعلیٰ فوجی اور سویلین وفد میں شامل ہیں جو اِس وقت جنوبی کوریا کا دورہ کر رہا ہے۔ بدھ کے روز کلنٹن نے سیئول میں شمالی کوریا کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا۔

XS
SM
MD
LG