رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ اور چین کے وزرائے خارجہ کا شمالی کوریا کے معاملے پر تبادلہ خیال


چین اور امریکہ کے وزرائے خارجہ

کیری نے کہا کہ شمالی کوریا کے خلاف اقوام متحدہ کی ایک سخت قرارداد کے متعلق اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے مگر ابھی اس کے خدوخال پر اتفاق نہیں کیا جا سکا۔

امریکہ اور چین نے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے مگر ان کے درمیان شمالی کوریا کے حالیہ جوہری تجربے کے بعد اس پر تعزیرات عائد کرنے کے متعلق اتفاق نہیں ہو سکا۔

بدھ کو بیجنگ میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات کے بعد چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ ان کا ملک پیانگ یانگ کے جوہری تجربے کے بعد اس کے خلاف اقوام متحدہ کی نئی قرارداد کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے۔

مگر انہوں نے کسی خاص تعزیر کا ذکر نہیں کیا اور کہا کہ نئی قرارداد سے کشیدگی پیدا نہیں ہونی چاہیئے۔

کیری نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ایک سخت قرارداد کے متعلق اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے مگر ابھی اس کے خدوخال پر اتفاق نہیں کیا جا سکا۔

انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیار نہ رکھنے والے ملک ایران کے خلاف شمالی کوریا، جو جوہری ہتھیاروں سے لیس ہے، کی نسبت زیادہ پابندیاں عائد کی گئی تھیں ۔

اپنے ایک روزہ دورے کے دوران کیری صدر شی جنپنگ اور دیگر سرکاری عہدیداروں سے بھی ملاقات کریں گے۔

چین کے شمالی کوریا سے تعلقات کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات بیجنگ پیانگ یانگ پر مزید تعزیرات عائد کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار نظر آتا ہے۔

کونسل آن فارن ریلیشنز میں کوریئن سٹڈیز کے مبصر سکاٹ سنائڈر نے کہا کہ ’’چین کے لیے شمالی کوریا کو سزا دینے اور اس کے استحکام کے بارے میں اپنی تشویش میں توازن رکھنا ایک چیلینج ہے۔ وہ دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں مگر وہ بہت زیادہ دباؤ نہیں ڈالنا چاہتے۔‘‘

امریکہ اور چین کے درمیان بات چیت کا ایک اور موضوع بحیرہ جنوبی چین کا بحری تنازع ہے جس پر چین اور ایشیا پیسفک خطے کے دیگر ممالک بشمول تائیوان، ویتنام اور فلپائن ملکیت کا دعویٰ رکھتے ہیں۔

اس ماہ کے اوائل میں چین کی طرف سے ایک مصنوعی جزیرے پر بنائی گئی رن وے پر ہوائی جہاز اتارنے کے تجربے کے بعد علاقے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔

کیری مشرقی ایشیا کے تین ممالک کے دورے پر ہیں جہاں چین ان کا آخری پڑاؤ ہے۔ اس سے قبل وہ لاؤس اور کمبوڈیا کا دورہ کر چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG