رسائی کے لنکس

logo-print

شن جانگ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا الزام، چینی عہدے داروں پر پابندیوں کا مطالبہ


شن جانگ کے شہر کاشغر میں سیکیورٹی اہل کار ایک مسجد کے قریب گشت کر رہے ہیں۔ چینی حکام نے اس صوبے سے بہت سے مسلمانوں کو پکڑا ہے۔ فائل فوٹو

ویگر سرگرم کارکنوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور کئی دوسرے اداروں کے اندازوں کے مطابق حراست میں رکھنے جانے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار سے 10 لاکھ کے درمیان ہے۔

امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتوں، ری پبلیکن اور ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے 17 قانون سازوں کے ایک گروپ نے ٹرمپ انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ چین کے ان اعلیٰ عہدے داروں پر پابندیاں لگائے جن پر دور افتادہ علاقے شن جانگ میں مسلم نسلی اقلیت کے حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام ہے۔

قانون سازوں کے گروپ نے بدھ کے روز وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر خزانہ سٹیون منوچن کو خط بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مغربی خود مختار علاقے میں لاکھوں ویگر اور دوسرے نسلی مسلمان قید و بند، ایذا رسانی، مذہبی رسومات و عقائد کی ادائیگی اور ثقافت پر بڑے پیمانے کی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ان نسلی اقلیتوں کے افراد کو سیاسی تعلیم و تربیت کے نام پر کیمپوں اور مراکز میں حراست میں رکھا جاتا ہے۔

بیجنگ میں چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن یانگ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے امریکی قانون سازوں کے مطالبوں کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی قانون سازوں کو دوسرے ملکوں کے معاملات میں اپنی ناک گھسانے اور خود کو انسانی حقوق کے جج قرار دینے کی بجائے اپنے کام پر توجہ دینی چاہیے۔

چین نے اپریل 2017 میں مقامی ویگر مسلمانوں پر انتہا پسندانہ جذبات رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں تربیتی کیمپوں میں زیر حراست رکھنا شروع کیا تھا۔

ویگر سرگرم کارکنوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور کئی دوسرے اداروں کے اندازوں کے مطابق حراست میں رکھنے جانے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار سے 10 لاکھ کے درمیان ہے۔

بیجنگ کا کہنا ہے کہ شن چانگ کو اسلامی عسکریت پسندوں کی جانب سے شديد خطرات لاحق ہیں جو حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور نسلی چینی اکثریت ہان کے خلاف زیادہ تر مسلمانوں پر مشتمل اقلیت کو اکساتے رہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG