رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کا میزائلوں کے معاہدے سے الگ ہونا خطرناک اقدام ہے، روس


فائل فوٹو

ماسکو نے کہا ہے کہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائیلوں کے خاتمے کے سمجھوتے سے امریکہ کا الگ ہو جانا ایک خطر ناک اقدام ہو گا ۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ وہ اپنے ملک کو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائیلوں سے متعلق تقریباً تین دہائی پرانے معا ہدے سے با ہر نکال لیں گے کیونکہ ماسکو نے اس سمجھوتے کی خلاف ورزی کی ہے۔ بہر حال انہوں نے روس کی خلاف ورزیوں کی کوئی تفصیل نہیں بتائی ۔

1980 کی دہائی کے اختتام پر ہونے والے اس معاہدے کے تحت امریکہ اور روس دونوں کو اپنے کم فاصلے اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جوہری اور روائتی میزائیلوں کو تلف کردینا تھا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ روس نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور وہ کئی برسوں سے خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ ان کے اپنے الفاظ میں ’’مجھے نہیں معلوم کہ صدر اوباما نے اس بارے میں مذاکرات کیوں نہیں کئے یا وہ اس سے الگ کیوں نہیں ہوئے۔ ہم انہیں نیوکلیر سمجھوتے کی خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے کہ وہ ہتھیار بنائیں اور ہمیں ایسا کر نے کی اجازت نہ ہو ۔‘‘

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر روس اور چین ہتھیاروں کی تیاری روکنے پر آمادہ نہیں ہوتے تو امریکہ بھی ہتھیار تیار کرے گا۔ بقول انکے اگر روس اور چین ایسا کر رہے ہیں اور ہم اس سمجھوتے کی پاسداری کر رہے ہیں تو یہ قابل قبول نہیں ہے ۔

ماسکو نے آج کہا ہے کہ اس سمجھوتے سے امریکہ کا الگ ہو جانا ایک خطر ناک اقدام ہو گا۔ روس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تر دید کی ہے۔ چین اس معاہدے میں فریق نہیں ہے ۔

ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن آئندہ ہفتے ماسکو کا دورہ کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG