رسائی کے لنکس

logo-print

بحرین میں مخالفین کےخلاف کارروائی پر امریکہ کا اظہار تشویش


ترجمان محکمہٴخارجہ: ’ہم ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ حزب مخالف کی ایسی جماعتیں جو حکومت کے خلاف پُرامن انداز میں تنقید کرتی ہیں، وہ سب کی شمولیت اور شراکت داری والے معاشروں میں اہم کردار ادا کیا کرتی ہیں‘

امریکی محکمہٴخارجہ نے بحرین میں حزب مخالف کے رہنماؤں کے خلاف کی جانے والی کارروائی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ترجمان، جان کِربی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’حال ہی میں آزاد کیے گئے بحرین کے حزب مخالف کے رہنما ابراہیم شریف کی گرفتاری، حزب مخالف کی شخصیت مجید میلاد کو زیر حراست لے کر مقدمہ چلانا، اور ’الوافق سیاسی تنظیم‘ کے سکریٹری جنرل علی سلمان کے خلاف از سر نو مقدمہ چلایا جانا اور بحرین میں آزادی اظہار پر قدغنیں شدید تشویش کا باعث ہیں۔‘

ترجمان کے بقول، ’ایسے میں جب ہمیں یہ ابتدائی اطلاعات مل رہی ہیں کہ بحرین کے سرگرم کارکن نبیل رجب کو جیل سے رہا کیا گیا ہے، ہم حکومت بحرین پر زور دیتے ہیں کہ وہ آزادی اظہار کی حرمت کا خیال رکھے۔۔ انسانی حقوق کے آفاقی اعلان اور شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی اعلامیے میں دی گئی شقوں کے مطابق کام کرے، جن پر بحرین کے دستخط ہیں‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ حزب مخالف کی ایسی جماعتیں جو حکومت کے خلاف پُرامن انداز میں تنقید کرتی ہیں، وہ سب کی شمولیت اور شراکت داری والے معاشروں میں اہم کردار ادا کیا کرتی ہیں‘۔

ترجمان نے حکومت بحرین پر زور دیا ہے کہ ’آزادی اظہار اور اجتماع کے آفاقی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے، بالکل ایسے ہی جیسے ہم بحرین کے معاشرے کے تمام عناصر پر زور دیتے ہیں کہ وہ سیاسی رائے کے اظہار کے لیے پُرامن طریقہ کار اپنائیں اور تشدد کی کارروائیوں کی مذمت کریں‘۔

XS
SM
MD
LG