رسائی کے لنکس

logo-print

یوکرین سے متعدد روسی ٹرکوں کی اپنی سرحد کی طرف واپسی


امریکہ نے بغیر اجازت یوکرین میں روسی ٹرکوں کے داخلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس ضمن میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کر رہا ہے۔

کیئف کی اجازت کے بغیر یوکرین میں داخل ہونے والے متعدد روسی ٹرک واپس اپنی سرحد کی طرف مڑ گئے ہیں۔

ہفتہ کو عینی شاہدین کے مطابق 220 سے زائد ٹرکوں کا جو قافلہ یوکرین میں داخل ہوا تھا اس میں سے بیشتر دوبارہ روسی سرحد میں داخل ہونےکی تیاری کر رہا ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ ان ٹرکوں پر کوئی سامان لدا ہوا ہے یا نہیں۔

اس سے پہلے امریکہ نے یوکرینی حکومت کی اجازت کے بغیر مشرقی یوکرین میں امدادی سامان والے روسی قافلے کے داخلے کی شدید مذمت کی تھی۔

پینٹاگون کے ترجمان جان کربے نے صحافیوں کو بتایا کہ روسی ٹرکوں کی یوکرین کے سرحد عبور کرنے پر امریکہ کو بہت تشویش ہے۔

"ہم اس اقدام اور روسی فورسز کے ہر اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو۔ روس کو اپنی گاڑیاں یا کسی بھی طرح کا سامان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد یا کسی بھی اور تناظر میں کیئف کی اجازت کے بغیر یوکرین نہیں بھیجنا چاہیے۔"

کربے کا کہنا تھا کہ یہ اقدام یوکرین کی سالمیت اور جغرافیائی خودمختاری کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

"روس فوری طور پر یوکرین کے علاقے سے اپنی گاڑیاں اور اہلکار ہٹائے۔ ایسا کرنے میں ناکامی کی صورت میں اسے مزید قیمت ادا کرنا پڑے گی۔"

ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے بین الاقوامی اتحادیوں سے اس ضمن میں آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کر رہا ہے۔ انھوں نے یوکرین کی سرحد کے ساتھ ان کے بقول 10 ہزار سے زائد روسی فوجیوں کی موجودگی پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا۔

"جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا کہ وہاں توپ خان اور فضائی دفاع سمیت افواج فوج ہیں۔ ان کی استعداد کار بھی بہت ہے۔ ان کی نقل و حرکت ہے اور وہ سوائے سرحد پار یوکرین کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کے اور کچھ بھی نہیں کر رہے۔"

جان کربے نے کہا کہ روس، یوکرین میں علیحدگی پسندوں کو ٹینکوں، توپ خانے اور فضائی دفاعی نظام جیسے سامان کی فراہمی کے ساتھ ان کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

روس کی طرف سے لگ بھگ تین سو ٹرکوں پر مشتمل قافلہ جمعہ کو یوکرین کی سرحد میں داخل ہوا تھا جو اس کے بقول امدادی سامان لے کر آیا ہے۔

XS
SM
MD
LG