رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کی مشرقی یوکرین میں روسی 'جارحانہ اقدام' کی مذمت


ہیلی نے کہا کہ امریکہ نے کرائمیا پر روسی قبضہ کے بعد ماسکو پر تعزیرات عائد کی تھیں اور یہ اس وقت تک عائد رہیں گی جب تک اس علاقے کا کنٹرول یوکرین کو واپس نہیں کر دیا جاتا ہے۔

امریکی کی اقوام متحدہ میں سفیر نے جمعرات کو یوکرین میں روس کی فوجی کارروائی کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ماسکو کے "جارحانہ اقدام" کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی کرائمیا سے متعلق روس پر عائد کی جانے والی تعزیرات اپنی جگہ موجود رہیں گی۔

نکی ہیلی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ "میں روس کی جارحانہ اقدام کی مذمت کرتی ہوں"۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے اقوام متحدہ کے سفیر کے طور پر گزشتہ ہفتے توثیق کے بعد نکی ہیلی نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں پہلی بار شرکت کی۔

ہیلی نے کہا کہ "ہم روس سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔"

"تاہم مشرقی یوکرین کی سنگین صورت حال، روس کی واضح اور سخت مذمت کی متقاضی ہے۔"

ہیلی نے کہا کہ امریکہ نے کرائمیا پر روسی قبضہ کے بعد ماسکو پر تعزیرات عائد کی تھیں اور یہ اس وقت تک عائد رہیں گی جب تک اس علاقے کا کنٹرول یوکرین کو واپس نہیں کر دیا جاتا ہے۔

ہیلی نے کہا کہ "امریکہ روس کے کرائمیا پر قبضے کی مذمت کرتا رہے اور (وہ) مطالبہ کرتا ہے کہ کرائمیا پر روسی قبضہ فوری طور پر ختم کیا جائے۔"

ہیلی نے مزید کہا کہ "کرائمیا یوکرین کا حصہ ہے۔"

قبل ازیں جمعرات کو ہی امریکہ کے محکمہ خزانہ نے اس بات کا اعلان کیا کہ روس کی سکیورٹی سروس ’ایف ایس بی‘ کے کاروباری معاملات سے متعلق عائد بعض تعیزات کو نرم کیا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سپائسر نے کہا کہ اس اقدام کا یہ مطلب نہیں ہے کہ امریکہ روس کے خلاف عائد پابندیوں کو نرم کر رہا ہے۔

حالیہ دنوں میں مشرقی یوکرین میں روس کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند ملیشیا اور یوکرین کی سیکورٹی فورسز کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔

جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں عام شہر پانی اور بجلی کے بغیر انتہائی سرد حالات کا سامنا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے پہلے ہی سے مشکل انسانی حالات مزید ابتر ہو گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہنگامی امداد کے رابطہ کار اسٹیفن او برائن نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ اہم نوعیت کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے شدید نقصان کی وجہ سے ہزاروں عام شہریوں کی زندگیوں کو بہت زیادہ خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

سکیورٹی کونسل کے ارکان نے جمعرات کو فوری جنگ بندی کامطالبہ کرتے ہوئے، امن سمجھوتے پر عمل درآمد کرنے کا کہا ہے۔ فروری 2015ء میں طے پانے والے سمجھوتے کا مقصد مشرقی یوکرین کے تنازع کا خاتمہ اور اس علاقے میں مبصرین کی بلا رکاوٹ رسائی دینا شامل تھا۔

دوسری طرف یوکرین کے سفیر ولودیمر یلچینکو نے کہا کہ ان کی حکومت منسک معاہدے کی مکمل پابندی کرنے کے عزم پر قائم ہے اور یہ کہا کہ یوکرین کی فورسز کو سختی سے یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ روس کے حمایت یافتہ ملیشیا کی طرف سے فائرنگ کی صورت میں ہی جوابی فائرنگ کریں۔

یلچینکو کے بقول روسی اشتعال انگریز اقدام کو روکنے کے لیے مشرقی یوکرین میں بین الاقوامی سکیورٹی مبصرین کو تعینات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG