رسائی کے لنکس

logo-print

سری لنکا میں فسادات پر امریکہ کا اظہارِ تشویش


اتوار کو سری لنکا کے دوساحلی قصبوں میں بدھ مت کے پیروکار سنہالیوں کی جانب سے مسلمانوں پر حملوں کے نتیجے میں تین مسلمان ہلاک اور 75 افراد شدید زخمی ہوگئے تھے۔

امریکہ نے سری لنکا میں شدت پسند بدھ تنظیم کے کارکنوں کی جانب سے مسلمانوں پر حملے کے واقعات کی مذمت کرتےہوئے کولمبو حکومت سے کہا ہے کہ وہ مذہبی اقلیتوں کا تحفظ یقینی بنائے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان جین پساکی کے بقول سری لنکا میں فسادات کو بھڑکانے والے عوامل پر امریکہ کو بطور خاص تشویش ہے۔

بدھ کو واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ امریکہ سری لنکا کی حکومت پر زور دیتا ہے کہ وہ مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنے سے متعلق اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور تمام شہریوں اور عبادت گاہوں کا تحفظ یقینی بنائے۔

ترجمان نے کہا کہ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ سری لنکن حکومت حالیہ پرتشدد واقعات کی مکمل تحقیقات کرے اور ان میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا اہتمام کرے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا کہ ان کا ملک سری لنکا کے تمام گروہوں پر زور دیتا ہے کہ وہ برداشت کا مظاہرہ اور قانون کا احترام کریں اور تشدد سے گریز کریں۔

اتوار کو سری لنکا کے دو جنوبی ساحلی قصبوں میں بدھ مت کے پیروکار سنہالی افراد کی جانب سے مسلمانوں پر حملوں کے نتیجے میں تین مسلمان ہلاک اور 75 افراد شدید زخمی ہوگئے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق فسادات کے واقعات متاثرہ قصبوں میں ایک سخت گیر بدھ تنظیم کے احتجاجی جلوس کے دوران ہوئے تھے جس میں اقلیتی مسلمانوں کے کئی گھروں اور دیگر املاک کو نذرِ آتش کردیا گیا تھا۔

علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا تھا کہ پولیس نے بلواسطہ اور بلاواسطہ حملہ آوروں کی مدد کی تھی تاہم سری لنکن حکومت اس الزام کی تردید کر رہی ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان فسادات کے بعد مذہبی منافرت کی یہ لہر سری لنکا کے دیگر علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

'ایمنسٹی' کے مطابق سری لنکا میں اقلیتوں کے خلاف حالیہ برسوں میں ہونے والے یہ بدترین فسادات تھے۔ تنظیم نے سری لنکا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں مسلم مخالف جذبات اور اقلیتی آبادی کو نشانہ بنانے والے گروہوں پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
XS
SM
MD
LG