رسائی کے لنکس

logo-print

’الباب‘ فضائی کارروائی میں عدنانی ہلاک ہوا: پینٹاگان


پیر کے روز ایک بیان میں، محکمہٴ دفاع کے ترجمان پیٹر کوک نے کہا ہے کہ 30 اگست کو شام کے شہر ’الباب‘ کے قریب ابو محمد العدنانی کے خلاف کی گئی کارروائی درست نشانے پر لگی، جس سے اِس مسلح گروپ کی کارروائیوں کی صلاحیت کو شدید ضرب لگ چکی ہے

پینٹاگان نے کہا ہے کہ اِس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ گذشتہ ماہ کے امریکی فضائی حملے میں داعش کا ترجمان اور حکمتِ عملی کا سربراہ ہلاک ہوا۔

پیر کے روز ایک بیان میں، محکمہٴ دفاع کے ترجمان پیٹر کوک نے کہا ہے کہ 30 اگست کو شام کے شہر ’الباب‘ کے قریب ابو محمد العدنانی کے خلاف کی گئی کارروائی درست نشانے پر لگی، جس سے اِس مسلح گروپ کی کارروائیوں کی صلاحیت کو شدید ضرب لگ چکی ہے۔

حملے کے فوری بعد، پینٹاگان نے بتایا تھا کہ امریکی قیادت والے اتحاد نے داعش کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی ہیں جن میں عدنانی کو نشانہ بنانا شامل ہے۔ تاہم، اس بات کی تصدیق نہیں کی جا سکی آیا اِس کارروائی میں وہ ہلاک ہوا۔
فضائی حملے کے ایک روز بعد، روس نے دعویٰ کیا تھا کہ اُس کی افواج نے یہ حملہ کیا تھا، جسے ایک اعلیٰ امریکی دفاعی اہل کار نے ’’غلط بیانی کی کوشش‘‘ قرار دیا۔

ایک امریکی دفاعی اہل کار نے کہا ہے کہ عدنانی غیر ملکی لڑاکوں کی براہ راست بھرتی میں ملوث تھا، اور شام اور عراق میں داعش کے مضبوط ٹھکانوں سے باہر ہونے والے اہم حملوں میں بھی براہِ راست ملوث تھا۔

اہل کار کے مطابق، ’’اُس کے حملوں میں پیرس کا حملہ، برسلز ہوائی اڈے پر ہونے والا حملہ، استنبول ہوائی اڈے پر کیا گیا حملہ، سنائی میں روسی ایئرلائن مار گرانے کا واقعہ، انقرہ میں ریلی پر ہونے والا خودکش حملہ اور بنگلہ دیش کے کیفے میں کیا گیا حملہ شامل ہیں۔ مجموعی طور پر اِن حملوں میں 1800 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جب کہ تقریباً 4000 افراد زخمی ہوئے‘‘۔

آٹھ ماہ قبل عراق کے شہر حدیثہ کے قریب ہونے والی لڑائی کے دوران خبر آئی تھی کہ عدنانی شدید زخمی ہوا ہے۔ انتالیس برس قبل شام میں پیدا ہونے والا عدنان، القاعدہ دہشت گرد نیٹ ورک کا ایک نامور رُکن تھا، جہاں اُنھیں گروپ کے سربراہ ابو بکر البغدادی کے بعد دوسرے درجے کا رہنما خیال کیا جاتا تھا۔

تقریباً دو برس قبل، عدنانی نے داعش کا وہ بدنام بیان جاری کیا جس میں مغرب میں مقیم مسلمانوں سے کہا گیا تھا کہ وہ کسی کے خلاف کبھی بھی مہلک حملہ کریں۔

امریکی محکمہٴ خارجہ نے اطلاع دینے والے کو 50 لاکھ ڈالر انعام کی پیش کش کی تھی، جس سے عدنانی کو پکڑا جاسکے۔

XS
SM
MD
LG