رسائی کے لنکس

داعش کا اہم دہشت گرد کمانڈر شام میں ہلاک


شام میں امریکی فورسز (فائل فوٹو)
شام میں امریکی فورسز (فائل فوٹو)

تھامس نے کہا کہ داعش کے لیے غیر ملکی جنگجوؤں اور مالی وسائل کی نقل و حمل میں بھی ازبکی کلیدی اہمیت رکھتا تھا۔

امریکہ کے فوجی حکام نے بتایا ہے کہ رواں برس استنبول میں سال نو کی ایک تقریب میں ہوئے مہلک حملے میں ملوث شدت پسند تنظیم داعش کا ایک دہشت گرد شام میں امریکی فورسز کی کارروائی میں مارا گیا ہے۔

امریکی سنٹرل کمانڈ نے جمعہ کو عبدالرحمٰن ازبکی کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اسے چھ اپریل کو مشرقی شام کے علاقے میادین میں کیے گئے آپریشن میں نشانہ بنایا گیا۔

حکام کے بقول ازبکی داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کا "قریبی ساتھی" تھا اور عراق و شام کے باہر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی میں شامل تھا جس میں استنبول کے رینا نائٹ کلب پر حملہ بھی شامل ہے۔ اس حملے میں 39 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سنٹرل کمانڈ کے ترجمان کرنل جان تھامس نے کہا کہ "ہم واضح طور پر اسے (ازبکی) استنبول کے سال نو کی تقریب میں بمباری ملوث سمجھتے ہیں۔" ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس دہشت گرد کا کچھ عرصے سے پیچھا کر رہا تھا۔

تھامس نے کہا کہ داعش کے لیے غیر ملکی جنگجوؤں اور مالی وسائل کی نقل و حمل میں بھی ازبکی کلیدی اہمیت رکھتا تھا۔

امریکی حکام نے یہ تو واضح نہیں کیا کہ یہ دہشت گرد رینا نائٹ کلب حملے میں کس طرح ملوث تھا لیکن ان کے بقول یہ آبائی طور پر ازبکستان سے تعلق رکھتا تھا۔ اس حملے کا مشتبہ مرکزی ملزم عبدالقادر ماشاریپوف کا تعلق بھی ازبکستان سے ہے۔

ترک حکام نے بتایا تھا کہ ماشاریپوف نے اس حملے کا اعتراف کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG