رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا کے خلاف سخت تعزیرات کا بل کانگریس سے منظور


قانون سازوں کی اکثریت نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری پیانگ یانگ کے خطرناک جوہری پروگرام کے خلاف ردعمل میں سست روی کا اظہار کر رہی ہے۔

امریکہ کے ایوان نمائندگان نے شمالی کوریا کے خلاف نئی وسیع اور سخت تعزیرات نافذ کرنے کا بل منظور کر لیا ہے جب کہ یہ سینیٹ اس کی پہلی ہی منظوری دی چکی ہے۔

جمعہ کو ہونے والی رائے شماری میں دو کے مقابلے میں یہ بل 408 ووٹوں سے منظور کیا گیا۔ رواں ہفتے کے اوائل میں سینیٹ میں اسے صفر کے مقابلے میں 96 ووٹوں سے منظور کیا گیا تھا۔

اب دستخط کے لیے یہ بل صدر براک اوباما کو بھجوایا جائے گا۔

اس بل میں رقوم کی غیر قانونی منتقلی، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں، ہتھیاروں اور پرتعیش اشیا کے تاجروں اور جوہری پروگرام سے منسلک کسی بھی شخص یا سائبر کرائم میں ملوث افراد کو براہ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔

مزید برآں یہ بل شمالی کوریا کے شہریوں کی ذرائع ابلاغ تک رسائی اور پناہ گزینوں کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد کے لیے سالانہ دس ارب ڈالر کی اضافی معاونت کی بھی اجازت دیتا ہے۔

شمالی کوریا کی طرف سے طویل فاصلے تک جانے والے راکٹ کے تجربے کے ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں نے یہ بل سرعت کے ساتھ منظور کیا ہے۔

قانون سازوں کی اکثریت نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری پیانگ یانگ کے خطرناک جوہری پروگرام کے خلاف ردعمل میں سست روی کا اظہار کر رہی ہے۔ اس پروگرام کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے حکام نے عندیہ دیا ہے کہ صدر کانگریس کی طرف سے بھاری اکثریت سے منظور کیے جانے والے بل کو ممکنہ طور پر ویٹؤ نہیں کریں گے۔

XS
SM
MD
LG