رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: سزائے موت پرفائرنگ اسکواڈ سے عمل درآمد


1976 میں امریکی سپریم کورٹ کی طرف سے سزائے موت کا قانون بحال ہونے کے بعد فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے تیسر ی مرتبہ کسی مجرم کو سزا دی گئی ہے۔

امریکہ کی مغربی ریاست یوٹاہ میں قتل کے ایک مجرم کو عدالت کی طرف سے سنائی گئی موت کی سزا پر عملدرآمد کرتے ہوئے جمعے کو گولی ماردی گئی۔

عدالت عظمیٰ اور ریاست کے گورنر کی طرف سے جمعرات کو رحم کی اپیلیں مسترد ہونے کے بعد رونی لی گارڈنرکو مقامی وقت کے مطابق رات 12 بجے پانچ رضاکار نشانہ بازوں پر مشتمل فائرنگ اسکواڈ نے گولیا ں ماریں۔

گورنر گیری ہربرٹ کا کہنا تھا کہ متعدد عدالتیں پہلے ہی گارڈنر کے مقدمے کی بھرپور اور منصفانہ انداز میں سماعت کر چکی تھیں۔

1976 میں امریکی سپریم کورٹ کی طرف سے سزائے موت کا قانون بحال ہونے کے بعد فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے تیسر ی مرتبہ کسی مجرم کو سزا دی گئی ہے۔

گارڈنر نے 1985 میں کمرہ عدالت سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران ایک وکیل مائیکل برل کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا اور جرم ثابت ہونے پر اسے موت کی سزا سنائی گئی تھی۔


49 سالہ گارڈنر نے گولیوں سے سزائے موت کا انتخاب کیا تھا تاہم عدالت کے فیصلے کے کچھ عرصے بعد ریاست یوٹا میں اس طریقے سے مجرموں کو سزا ئے موت دینے کے قانون پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

امریکہ کی عدالت عظمیٰ نے 1976میں مجرموں کو سزائے موت دینے کا قانون بحال کیا تھا۔ ریاست یوٹاہ نے2004 ء میں گولیاں مار کر سزائے موت دینے کے قانون پر پابندی لگا دی تھی لیکن اسے ختم نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ تھی کے گارڈنر نے جان لیوا انجکشن لگوانے کی بجائے فائرنگ اسکواڈ کے ہاتھوں موت کو ترجیح دی۔

اُسے چھاتی سے اوپر گولیا ں ماری گئیں لیکن اس کارروائی سے پہلے ایک کُرسی سے باندھ کر اُس کا چہرہ ڈھانپ دیا گیا تھا۔ نشانہ بازوں کو دی گئی بندوقوں میں سے چار بھری ہوئی تھیں اور ایک میں خالی کارتوس بھرے گئےتاکہ پانچوں رضاکار وں کو یہ معلوم نہ ہو سکے کہ کس کے ہاتھوں گارڈنر کی موت واقع ہوئی۔

XS
SM
MD
LG