رسائی کے لنکس

logo-print

نیٹو رُکن ممالک کو دفاعی اخراجات میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیئے: جِم میٹس


امریکی وزیر دفاع نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے عہد کی تائید کرتے ہوئے، نیٹو اور اتحادیوں کو متنبہ کیا کہ امریکہ اتحاد کے بارے میں ’’اپنے عزم میں کمی کر سکتا ہے‘‘ اگر اتحادی اپنے اپنے دفاعی بجٹوں میں مجموعی قومی پیداوار کا کم از کم دو فی صد حصہ دفاع کے لیے مختص نہیں کرتے

جولائی میں، اُس وقت کے صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے یورپ میں طوفان سا برپہ کیا جب اُنھوں نے کہا تھا کہ ہوسکتا ہے امریکہ روس کے خلاف نیٹو اتحادیوں کا دفاع نہ کرے، اگر وہ دفاع پر اٹھنے والے اخراجات میں اپنا حصہ نہیں ڈالتے۔

بدھ کے روز، امریکی وزیر دفاع جِم میٹس نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اِس عہد کی تائید کرتے ہوئے، نیٹو اور اتحادیوں کو متنبہ کیا کہ امریکہ اتحاد کے بارے میں ’’اپنے عزم میں کمی کر سکتا ہے‘‘ اگر اتحادی اپنے اپنے دفاعی بجٹوں میں مجموعی قومی پیداوار کا کم از کم دو فی صد حصہ دفاع کے لیے مختص نہیں کرتے۔

بدھ کے روز نیٹو ہیڈکوارٹرز کے ساتھ بند کمرے کے ایک اجلاس میں، میٹس نے اتحادیوں سے کہا کہ ’’امریکہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر پائے گا اگر آپ کے ملک امریکہ کو اتحاد سے کیے گئے عہد کو پورا کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے، ہر رُکن ملک کے دارالحکومت کو چاہیئے کہ ہمارے مشترکہ دفاع کے ضمن میں اپنا حصہ ڈالے‘‘۔

میٹس نے اِس بات کی وضاحت نہیں کی آیا امریکہ 28 رُکن ممالک کے اتحاد کے بارے میں عزم کو کس طرح بدل سکتا ہے۔

وہ پانچ ارکان جو نیٹو کے پیمانے پر پورے اترتے ہیں، اُن میں یونان شامل ہے جو تقریباً 2.5 فی صد کی ادائگی کرتا ہے؛ جب کہ پولینڈ، ایسٹونیا اور برطانیہ دو فی صد سے کچھ زیادہ ادائگی کرتے ہیں۔ دوسری جانب، جرمنی 1.19 فی صد کی سطح پر پے؛ جب کہ کینڈا، اٹلی، اور اسپین بھی مقررہ حد سے نیچے ہیں۔ فرانس دو فی صد سے بھی کم ادائگی کرتا ہے۔

امریکہ 3.6 فی صد اخراجات برداشت کرتا ہے۔

بدھ کے روز نیٹو کے وزراٴ سے بات کرتے ہوئے، امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ’’میرا فرض بنتا ہے کہ میں آپ کو امریکہ کی سیاسی حقیقت سے آگاہ کروں؛ اور یہ کہ میں آپ سے ٹھوس الفاظ میں ہمارے ملک کے عوام کا منصفانہ مطالبہ بیان کروں‘‘۔


ایک طویل مدت سے امریکہ نیٹو کے اتحادیوں کو باور کراتا آیا ہے کہ وہ متعین رقوم میں اضافہ کریں، جن میں اوباما انتظامیہ اور اُس سے بھی پہلے کی حکومتیں شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG