رسائی کے لنکس

سینئر امریکی عہدیداروں کا دورہ، رابطے جاری رکھنے پر اتفاق


وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق، وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق امریکی پالیسی کے تناظر میں تعلقات کا جائزہ لیا گیا اور باہمی دلچسپی کے تمام امور پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا

سینئر امریکی عہدیداروں پر مشتمل ایک وفد نے جمعرات کو پاکستان کا دورہ کیا جس میں دوطرفہ تعلقات، خاص طور پر حال ہی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے خطے اور جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی کے اعلان کے بعد کی صورت حال پر بات چیت کی گئی۔

پاکستانی وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق صدر ٹرمپ کی نائب معاون اور امریکہ کی نیشنل سکیورٹی کونسل میں جنوبی ایشیا سے متعلق سینئر ڈائریکٹر لیزا کرٹس کی قیادت میں امریکی وفد نے پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے ملاقات کی۔

امریکی وفد میں قائم مقام نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا ایلس ویلز کے علاوہ محکمہ دفاع اور خارجہ کے سینیئر عہدیدار بھی شامل تھے۔

وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق، وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق امریکی پالیسی کے تناظر میں تعلقات کا جائزہ لیا گیا اور باہمی دلچسپی کے تمام امور پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

بیان کے مطابق، پاکستان کی طرف ایک بار پھر افغانوں کی زیر قیادت سیاسی مذاکرات کے ذریعے مسئلے حل کے موقف کو دہرایا گیا۔

تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ افغانستان میں قیام کے امن کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں میں پاکستان تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

پاکستان کی سیکرٹری خارجہ نے اپنے حالیہ دورہ کابل علاوہ پاکستانی سرزمین سے دہشت گردوں کے خاتمے کی کوششوں کے بارے میں بھی امریکی وفد کو آگاہ کیا۔

دونوں ممالک نے تمام سطحوں پر رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

تہمینہ جنجوعہ کی زیر قیادت پاکستانی وفد سے مذاکرات کے بعد امریکی عہدیداروں نے وزیر خارجہ خواجہ آصف سے بھی ملاقات کی۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے افغانستان اور خطے سے متعلق پالیسی کے اعلان کے موقع پر پاکستان پر بھی یہ الزام لگایا کہ وہ دہشت گردوں کو پناہ دیتا آیا ہے۔

پاکستان نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

نئی امریکی پالیسی کے اعلان کے بعد دوطرفہ تعلقات میں سرد مہری دیکھی گئی تھی اور انھی حالات میں معاون امریکی وزیر خارجہ برائے امریکہ کی قائم مقام نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا ایلس ویلز کا دورہ پاکستان بھی ملتوی کر دیا گیا تھا۔

تاہم، گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس کے درمیان ملاقات کے بعد دوطرفہ روابط میں تیزی آئی۔

رواں ماہ کے اوائل میں پاکستان کے وزیر خارجہ آصف نے امریکہ کا دورہ کیا تھا جب کہ اسی ہفتے پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال بھی امریکہ پہنچے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG