رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: مشرقی ساحل کا وسیع علاقہ شدید برفانی طوفان کی زد میں


جمعے کی رات گئے، سرکاری ذرائع کے مطابق، جاری برفانی طوفان کا سلسلہ 'شدید تر ہوتا جا رہا ہےٗ؛ جب کہ شمالی کیرولینا، ٹینسی، ورجینیا، میری لینڈ اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا، سمیت، فلاڈیلفیا اور نیو یارک تک کی ریاستوں میں ہنگامی صورت حال کا اعلان کیا گیا ہے

جمعے کی دوپہر شروع ہونے والے شدید برفانی طوفان کے نتیجے میں واشنگٹن سمیت امریکہ کی مشرقی ساحلی ریاستیں، شمالی کیرولینا، ٹینیسی، ورجینیا اور میری لینڈ میں معمولات زندگی بُری طرح متاثر ہوچکے ہیں۔

آج دوپہر سے سرکاری دفاتر بند کردیے گئے جب کہ اسکول اور دیگر ادارے صبح ہی سے بند رہے۔ سڑکوں پر برف کی بھاری تہ کے باعث متعدد مقامات پر حادثات اور ٹریفک جام رہا، جب کہ کچھ علاقوں میں بجلی بند ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

برف باری کا سلسلہ ایک بجے، ایسٹرن ٹائم کے مطابق، شروع ہوا جو شام کے سات بجے بھی جاری ہے۔ محکمہ- موسمیات کے مطابق، برف باری کا یہ سلسلہ اگلے 36 گھنٹوں تک جاری رہنے جب کہ ہفتے کی صبح سے 40 سے 60 میل فی گھنٹا کی رفتار سے تیز آندھی چلنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ آندھی اور برف باری کا یہ سلسلہ اتوار کی صبح سویرے تک جاری رہے گا۔

نیویارک کے گورنر، اینڈریو کومو نے جمعے کی شام نیویارک میں ہنگامی صورت حال کا اعلان کیا، اور بتایا کہ موسمیاتی ماہرین نے فلاڈیلفیا اور نیویارک کو بھی برفانی طوفان کے بدلے ہوئے راستے مین شامل کیا ہے۔ اُنھوں نے نیویارک کے مکینوں کو 'بدترین صورت حال کے لیے تیار رہنے' کے لیے چوکنہ کیا۔

ادھر، ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی میئر، مریل بائوزر نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'سخت سردی کے موسم میں شدید برف باری کا یہ سلسلہ 90 سالہ تاریخ کا ریکارڈ توڑ سکتا ہے'۔

اُنھوں نے کہا کہ 'اِس دوران، دو سے تین فٹ برف باری کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے باعث، صورت حال سنگین ہوسکتی ہے'۔

تاہم، اُنھوں نے ڈی سی کے مکینوں سے اپیل کی کہ وہ 'اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں جب کہ نیشنل گارڈ کو چوکنہ کیا گیا ہے، اور کھانے پینے کی اشیا وافر مقدار میں موجود ہیں'۔

مریل بائوزر نے کہا کہ 'پہلے ہی ڈی سی میں میٹرو بس اور میٹرو ریل نظام جمعے کی شام سے بند ہے، جو پیر کی صبح تک بند رہے گا'۔

اُنھوں نے نجی گاڑیوں کےمالکان سے بھی اپیل کی کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

اس سے قبل موصولہ اطلاعات کے مطابق، طوفان کے راستے میں جو ریاستیں پڑتی ہیں وہاں امریکہ کی 25 فی صد آبادی مقیم ہے جس میں سے تین کروڑ افراد ان علاقوں میں آباد ہیں جہاں شدید برف باری جاری ہے۔

محکمۂ موسمیات نے طوفان کو 'انتہائی مہلک قرار دیتے ہوئے' شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جمعے سے اتوار تک گھروں میں محدود رہیں اور سفر سے حتی الامکان گریز کریں۔

طوفان کے پیشِ نظر اب تک امریکہ میں چھ ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کی جاچکی ہیں جن میں 2800 سے زائد جمعے کو جب کہ 3200 کے لگ بھگ ہفتے کو شیڈول تھیں۔

حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی، بوسٹن اور نیویارک کے شہری علاقے طوفان سے بہت زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں جہاں دو سے تین فٹ تک برف پڑنے کا امکان ہے۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں جمعے کی شام سے ہفتے کی شب تک ڈھائی فٹ تک برف پڑسکتی ہے جب کہ تیز طوفانی ہواؤں اور ساحل پر طغیانی کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔

طوفان کے پیشِ نظر واشنگٹن ڈی سی کی میئر موریل باؤزر نے شہر میں ہنگامی حالت نافذ کردی ہے اور جمعے کو اسکولوں میں تعطیل ہے۔

وفاقی حکومت نے بھی دارالحکومت میں واقع اپنے تمام دفاتر کے ملازمین کو دن 12 بجے کے بعد چھٹی دیدی، جب کہ حکام نے واشنگٹن ڈی سی میں پبلک بسیں اور میٹرو سروس بھی بالترتیب جمعے کی شام پانچ بجے اور رات 11 بجے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بس اور ٹرین سروس پیر کی صبح بحال ہوگی۔

حکام کے مطابق گزشتہ 40 برسوں میں پہلی بار واشنگٹن کے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کو اتنے زیادہ وقت کے لیے بند کیا جارہا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی سے متصل ریاستوں میری لینڈ اور ورجینیا میں بھی حکام نے ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔ ورجینیا کے گورنر ٹیری مکولف نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ طوفان کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے اپنی حفاظت یقینی بنائیں۔

'نیشنل ویدر سروس' کے مطابق طوفان کے باعث جمعےکی صبح سے ہی ٹینیسی اور شمالی کیرولائنا میں برف باری کا آغاز ہوچکا ہے۔ محکمۂ موسمیات کی ہدایات کے مطابق دونوں ریاستوں کے کئی بڑے شہروں میں تقریباً ہو کا عالم ہے جہاں شہری طوفان سے بچنے کے لیے اپنے گھروں میں بند ہیں۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ شدید برف باری کے باعث بجلی کی ترسیل متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے جس کے پیشِ نظر شہری روشنی کا متبادل انتظام رکھیں، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال کا فوری مقابلہ کرسکیں۔

XS
SM
MD
LG