رسائی کے لنکس

logo-print

ایبولا کے خلاف کوششیں: امریکہ تین ہزار فوجی لائبیریا بھیجے گا


یہ فوجی لائبیریا کے دارالحکومت میں قائم ایک نئے کمانڈ مرکز میں بھیجے جائیں گے جو سامان اور عملے کی نقل و حمل میں مدد کریں گے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کی بد ترین وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے منگل کو امدادی اقدمات کا اعلان کریں گے، جن کے تحت 3000 امریکی فوجی بھی وہاں بھیجنا شامل ہے۔

وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری بیان میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ فوجی لائبیریا کے دارالحکومت میں قائم ایک نئے کمانڈ مرکز میں بھیجے جائیں گے جو سامان اور عملے کی نقل و حمل میں مدد کریں گے۔

امریکہ ایبولا وائرس کے علاج کے لیے مراکز قائم کرے گا اور وہاں ہر ہفتہ 500 طبی کارکنوں کو تربیت دی جائے گی۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد ایبولا وائرس کی وبا پر قابو پانا، خطے میں اس کے اقتصادی اور سیاسی اثرات کو کم کرنا اور مغربی افریقہ اور اس سے باہر عالمی ’’صحت کے تحفظ کے بنیادی ڈھانچے‘‘ کی تعمیر کرنا ہے۔

امریکہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یوایس ایڈ) اس بیماری سے بچاؤ کے لیے طبی سامان کی تقسیم کے ساتھ ساتھ لوگوں کو تربیت بھی فراہم کرے گا، تاکہ وہ اپنے آپ اور اپنے خاندانوں کو محفوظ رکھ سکیں۔

مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس سے 4700 افراد متاثر ہو چکے ہیں اور یہ وبا گنی، سرالیون، لائبیریا اور سینیگال تک پھیل گئی ہے۔ لائبیریا سب سے زیادہ متاثرہوا ہے کیوں کہ ایبولا وائرس سے ہلاک ہونے والے 2400 افراد میں سے نصف کا تعلق اسی ملک سے ہے۔

صدر اوباما منگل کو ایٹلانٹا میں امریکی مرکز برائے انسداد امراض میں صحت کے ماہرین سے ملاقات اور نئی امریکی کوششوں کا اعلان کریں گے۔

اس نئے پروگرام کے تحت ایبولا وائرس پر قابو پانے کے لیے امریکی امداد 17 کروڑ پچاس لاکھ ڈالر ہو جائے گی۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جمعرات کو ایبولا وائرس سے متعلق ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر سمنتھاپاور کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس کی صورت حال کافی سنگین ہے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عالمی برادری کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

XS
SM
MD
LG