رسائی کے لنکس

امریکی معیشت بحالی کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے: وائٹ ہاؤس


ایک خاتون الی نوائے کے محکمہ روزگار کے باہر درخواست دینے کے لیے روزگار کے مواقعوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ 9 جون 2020

وائٹ ہاؤس کے اقتصادی مشیر لیری کڈلو نے سی این این ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی اقتصادی صورت حال میں بہتری کے آثار نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اگلا سال معاشی لحاظ سے مستحکم ہو گا۔

وائٹ ہاؤس کے اقتصادی مشیر لیری کڈلو کا کہنا ہے کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے اس پر جو منفی اثرات پڑے تھے، وہ زائل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے سلسلے میں کاروبار اور صنعتوں کو بند کرنا پڑا اور اس کی وجہ سے امریکی معیشت کو نقصان پہنچا تھا۔ تاہم اب حالات بہتری کی جانب جا رہے ہیں۔

انہوں نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ 2021 معاشی اعتبار سے ایک مستحکم سال ہو گا۔

کاروبار اور صنعتوں کی بندش کی وجہ سے ملک میں بے روزگاری شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوا تھا اور وفاقی حکومت چار کروڑ سے زیادہ افراد کو بیروزگاری الاونس سمیت چھ سو ڈالر فی ہفتہ بطور بے روزگاری اضافی معاوضہ بھی دے رہی ہے۔

وائٹ ہاوس کے مشیر نے کہا کہ یہ اضافی رقم جولائی کے آخر تک دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کو کام نہ کرنے کے باوجود جو پیسے دے رہے تھے، وہ ان کی تنخواہوں سے بہتر تھے۔ کرونا وائرس کے ابتدائی دنوں میں بے روزگار کارکنوں کے لیے یہ اضافی رقم ایک سہارا بنی، تاہم اس سے معیشت کی بحالی کا کوئی تعلق نہیں۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ لوگ کام پر واپس جائیں۔ میرے خیال میں لوگ کام پر واپس جانے کے خواہش مند ہیں۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بے روزگاری اضافی مدد ہرگز بند نہیں کی جائے گی۔

وائٹ ہاؤس کے اقتصادی مشیر لیری کڈلو
وائٹ ہاؤس کے اقتصادی مشیر لیری کڈلو

وائٹ ہاؤس کے اقتصادی مشیر لیری کڈلو نے امریکی معیشت کی بحالی کی نوید سنانے کے ساتھ یہ بھی کہا کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے کیسز بڑھ رہے ہیں، جو باعث تشویش ہیں۔

اس وقت دنیا بھر میں سب سے زیادہ کرونا وائرس کے کیسیز امریکہ میں ہیں۔ بیس لاکھ سے زیادہ افراد اس سے متاثر ہو چکے ہیں اور ایک لاکھ 15 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ مشیر کڈلو کا کہنا تھا کہ امریکی عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں مئی کے ماہ میں 13 اعشاریہ 3 فی صد بے روزگاری کی شرح تھی۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ جب سروے کی اغلاط درست کی گئیں تو یہ شرح 16 اعشاریہ 3 فی صد ہونی چاہیے تھی۔

امریکی فیڈرل ریزرو نے بدھ کو پیش گوئی کی ہے کہ سال کے آخر تک یہ شرح کم ہو کر 9 اعشاریہ 3 فی صد پر آ جائے گی اور اگلے سال کے آخر تک 6 اعشاریہ 5 فی صد ہو جائے گی۔ بعض ماہرین اقتصادیات اس پیش گوئی سے اتفاق نہیں کرتے۔

امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں امریکی بے روزگاری کا شکار ہوئے ہیں۔ اور تاریخی طور پر بے روزگاری بہت زیادہ بڑھی ہے۔ اب اس میں کمی سبھی کے لیے یکساں نہیں ہو گی۔

امریکی فیڈرل ریزرو نے اپنے دو روزہ پالیسی اجلاس کے بعد کہا کہ صحت کے جاری بحران نے معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اور مسقبل قریب میں بھی اقتصادی سرگرمیوں، روزگار اور افراط زر پر اس کے گہرے اثرات باقی رہیں گے۔ درمیانی مدت میں بھی یہ خطرات منڈلاتے رہیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG