رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی عوام کا ’احتساب‘ اور ’نتائج‘ میں پختہ یقین: اوباما


وسط مدتی انتخابات میں بہتر نتائج حاصل کرنے پر، صدر نے ریپبلیکن پارٹی کو مبارک باد پیش کی۔اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ’بہتر نتائج پر مبنی تعلقات‘ کا حصول ممکن ہوگا، اور باقی دو برس کی صدارتی میعاد کے دوران عوام کے لیے بہتر سے بہتر اور مؤثر قانون سازی ہوگی

صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں امریکی عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے۔ ’اور یہ واضح پیغام ہے منتخب لوگوں کا احتساب اور نتائج برآمد کرنے پر زور‘۔

امریکی کانگریس کے انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد، جو ڈیموکریٹ پارٹی کے حق میں نہیں ہیں، صدر نے ریپبلیکن پارٹی کو بہتر نتائج حاصل کرنے پر مبارک باد دی اور اس اعتماد اور توقع کا اظہار کیا کہ ’بہتر نتائج پر مبنی تعلقات‘ کا حصول ممکن ہوگا، اور باقی دو برس کی صدارتی میعاد کے دوران عوام کے لیے بہتر سے بہتر اور مؤثر قانون سازی کی جائے گی۔

صدر نے کہا کہ اُنھوں نے بدھ کے روز ایوان نمائندگان کے اسپیکر جان بینر اور سینیٹر مچ مکونیل کو ٹیلی فون پر مبارک باد دی ہے، اور اس امید کا اظہار کیا کہ بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے اُنھیں مثبت حمایت حاصل ہو گی، ’جن کی مجھے پوری امید ہے‘۔

بقول اُن کے ’یہی جمہوریت ہے۔ اپنی سوچ، سمجھ بوجھ اور توقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے، ووٹ کے ذریعے، امریکی ملک کے لیے قیادت کو سامنے لاتے ہیں کہ وہ ملک کے لیے کام کریں۔ وہ نتائج چاہتے ہیں۔‘

اُنھوں نے کہا کہ وہ امریکہ کے مستقبل کے بارے میں پر اعتماد ہیں، اور اپنے نصب العین اور ایجنڈا پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔

صدر نے ریپبلکن پارٹی کے قائدین کو ملاقات کی دعوت دی، جس میں ملک کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنے کے لیے عملی منصوبہ بندی پر غور کیا جائے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ملک کو ’سرخ‘ اور ’نیلی‘ ریاستوں کی تقسیم میں نہیں پڑنا چاہیے، بلکہ سودمند سوچ یہ ہوگی کہ باوقار امریکی جمہوری اقدار کو سربلند کرنے کے لیے مل کر کام کیا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ جہاں کئی معاملوں پر دونوں سیاسی پارٹیوں کی سچ مختلف ہے، وہاں کئی ایسے معاملات بھی ہیں جن میں اشتراک عمل ممکن ہے۔ اس ضمن میں، اُنھوں نے معیشت کی مزید بہتری، تجارت کا فروغ اور زیریں ڈھانچے کی تعمیر کے امور کا ذکر کیا۔

صدر اوباما نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایبولا کی وبا سے نمٹنے، داعش کے شدت پسندوں کی سفاکی سے نبردآزما ہونے اور ’اگلے پانچ ہفتوں کے دوران بجٹ کو منظور کرنے‘ کی اولین ترجیحات کو مد نظر رکھتے ہوئے، فوری اور مثبت اقدام کیا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’ضرورت اِس بات کی ہے کہ ہم اپنی اپنی مخصوص سیاسی فکر اور سوچ میں الجھ کر نہ رہ جائیں، بلکہ ملک کی بہتری کے لیے مل کر کام کریں۔ امریکیوں کو صرف کام اور نتائج سے غرض ہے۔‘

امی گریشن اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ جہاں پچھلی سینیٹ نے ایک بل منظور کیا تھا، تاہم ایوان نمائندگان نے اس کی منظوری نہیں دی تھی۔

صدر نے کہا کہ اس معاملے میں جلد از جلد قانون سازی کی ضرورت ہے، جس میں، مزید تاخیر قابل قبول نہیں ہوگی۔

اُن کا کہنا تھا کہ صحت کی نگہداشت کی اصلاحات ہوں، معیشت کو کساد بازاری سے نکالنے کا معاملہ ہو یا روزگار کی فراہمی، ’میری انتظامیہ نے مؤثر کارکردگی دکھائی ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’کم سے کم تنخواہ‘ کا تعین، بچوں کی تعلیم میں بہتری لانا، خواتین کے لیے بہتر اجرت کو یقینی بنانا، نئی تجارتی منڈیوں کی تلاش، برآمدات کو بڑھانا، روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنا۔۔۔ایسے معاملات ہیں جس ایجنڈے پر مل کر کام کرنا ممکن ہے۔

XS
SM
MD
LG