رسائی کے لنکس

جنوبی ایشیائی امریکی شہریوں کی الیکشن میں شرکت کیسی رہی؟


امریکی ریاست کینٹکی میں ووٹرز ووٹ ڈالتے ہوئے

قومی دھارے میں شامل ووٹروں کی طرح جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے امریکی شہریوں نے بھی صدارتی الیکشن میں بھرپور شرکت کی۔ ملک کے طول و عرض میں پھیلے بھارت اور پاکستان سے آئے تارکین وطن نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ اسی طرح دارلحکومت واشنگٹن ڈی سی اور اس سے جڑی ریاستوں میری لینڈ اور ورجینیا میں بسنے والے بہت سے لوگوں نے الیکشن کے دن سے پہلے اپنے جمہوری حق کو استعمال کیا۔

بہت سے لوگوں نے ارلی ووٹنگ یعنی انتخابات والے دن سے قبل ووٹ ڈالنے کی سہولت استعمال کی۔ تاہم کئی لوگوں نے منگل کو یعنی الیکشن والے دن بھی ووٹ ڈالے۔ جنوبی ایشیا سے آئے تارکین وطن میں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کے حامی موجود ہیں۔

مائک غوث ایک انڈین امریکی ہیں جو عرصہ دراز سے بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے قومی دھارے اور کثیرالثقافتی برادریوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے دارلحکومت واشنگٹن میں منگل کے روز ووٹ ڈالا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جب بیلٹ اور ووٹ کے کاغذات دیکھے تو مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ کئی پوزیشنوں پر مسلمان اور باقی اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے نام بھی تھے۔

مائک غوث
مائک غوث

وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات قابل تحسین ہے کہ ایک طرف تمام برادریوں کے لوگ جمہوری عمل میں حصہ لے رہے ہیں اور دوسری جانب امریکی ووٹروں نے کرونا وبا کے غیرمعمولی حالات میں ووٹ ڈال کر اس جمہوری عمل میں بھرپور حصہ لیا۔

غوث کہتے ہیں کہ امریکی ووٹر بڑے باشعور اور معلومات رکھتے ہیں اور ایسے ممالک جہاں جمہوریت ابھی مضبوط نہیں ہے، انہیں یہ ترغیب لینی چاہیے کہ جمہوریت ایک عملی طریقہ ہے اور اس میں حصہ لے کر ہی اپنے آپ کو اس کے حقیقی ثمرت سے فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر شاوانا مفتی ورجینیا میں مقیم پاکستانی نژاد شہری ہیں۔ انہوں نے ڈاک کے ذریعہ اپنا ووٹ ارسال کیا۔

ڈاکٹر شاوانا مفتی
ڈاکٹر شاوانا مفتی

امریکیوں کی جمہوریت سے لگاؤ کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ امریکی عوام ایک جمہوری اور انصاف پر مبنی معاشرہ چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ترقی پسند لوگ غیر جمہوری طرز حکومت کے خلاف ہوتے ہیں۔

دوسری طرف بھارتی نژاد کامیاب کاروباری شخصیت جسی سنگھ کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے چار سال امریکی جمہوریت کے لیے بہتر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ووٹر صدر ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں اور کامیابیوں کو قائم رکھنے کے لیے انہیں ووٹ دے رہیں ہیں اور انہیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔

جیسی سنگھ
جیسی سنگھ

جسی سنگھ سکھس فار ڈونلڈ ٹرمپ نامی تنظیم کے بانی ہیں اور کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے دور میں تمام اقلیتی برادریوں میں بے روزگاری کی شرح امریکی تاریخ میں کم ترین شرح پر رہی۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کا الیکشن میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ مسلسل لاک ڈاون کی صورت حال میں نہیں رہنا چاہتے۔

لیکن ڈیموکریٹک امیدوار بائیڈن کے حامی حالات کو اس کے برعکس دیکھتے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ پر کرونا بحران کے حوالے سے تنقید کرتے ہیں۔ نیو جرسی میں منٹگمری ٹاؤن کی میر صدف جعفر نے پیر کو وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ پر یہ الزام لگایا تھا کہ وہ کرونا وائرس پر کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے۔

جنوبی ایشیا سے آئے کچھ لوگ اپنے آپ کو کسی بھی پارٹی سے منسلک نہیں کرتے اور آزادانہ حیثیت سے جمہوری عمل میں حصہ لیتے ہیں۔

پاکستان سے آئے ڈیوڈ سالک ایک متحرک سماجی رکن اور دنیا بھر میں اقلیتوں کی حفاظت اور بھلائی کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔

ڈیوڈ سالک اور ان کی اہلیہ
ڈیوڈ سالک اور ان کی اہلیہ

وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس الیکشن کے لئے خصوصی طور پر چہرے کا ایک ماسک بنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایسا اس لئے کیا کہ میں دونوں ملکوں سے اپنی وابستگی کا اظہار کروں۔ اور مجھے الیکشن سینڑ جا کر اس وقت بے حد خوشی ہوئی کہ لوگوں نے اس بات کی پذیرائی کی۔

انہوں نے کہا کہ لوگ امریکہ میں میسر مذہبی آزادیوں اور کرونا وائرس کے دور میں امریکی ووٹروں کی الیکشن میں شرکت سے جمہوریت کے بارے میں بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

اسی طرح پہلی بار ووٹ کا حق استعمال کرنے والے ایک پاکستانی نے اپنا نام نہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ اسٹیشن پر موجود تمام عملے نے ان کے پہلی بار ووٹ ڈالنے کو سراہا اور تالیوں سے خوش آمدید کہا۔ ان کا کہنا تھا انہیں اس پذیرائی سے خوشی ہوئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG