رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی انتخابات میں کامیاب اُمیدوار 'عبوری عرصے' میں کیا کرے گا؟


امریکہ میں صدارتی انتخاب جیتنے والا اُمیدوار تین ماہ کے دوران سرکاری عہدوں پر تعیناتیوں، کابینہ کی تشکیل سمیت 20 جنوری کو حلف برداری کی تقریب تک کئی اہم اُمور سر انجام دیتا ہے۔

نومبر میں پولنگ کے دن سے لے کر 20 جنوری کو حلف برداری تک کے عرصے کو 'ٹرانزیشن پیریڈ' یا عبوری دور کہا جاتا ہے۔

رواں برس ہونے والے انتخابات اور حلف برداری کے درمیان کے عرصے میں جیتنے والے امیدوار کو 78 دن ملیں گے یعنی لگ بھگ 11 ہفتے۔ لیکن ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کے عمل یا کسی تنازع کی صورت میں نتائج میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ کے دوبارہ منتخب ہونے یا پھر جو بائیڈن کے جیتنے کی صورت میں دونوں اُمیدواروں کی مصروفیات کی نوعیت الگ الگ ہو گی۔

سن 2000 میں ہونے والے انتخابات میں جارج ڈبلیو بش اور اُن کے حریف اُمیدوار ایلگور کے درمیان فلوریڈا میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے تنازع پر تاخیر کے باعث جارج بش کو انتقالِ اقتدار کے مراحل طے کرنے کے لیے صرف پانچ ہفتے ملے تھے۔

اگر ٹرمپ جیتے تو عبوری عرصے میں کیا کریں گے؟

اگر صدر ٹرمپ دوسری مدت کے لیے دوبارہ صدر منتخب ہوئے تو اُنہیں نسبتاً کم کام کرنا پڑے گا۔

تاہم اُنہیں دوسری مدت کے لیے اپنی انتظامیہ میں رد و بدل کر کے نئے چہروں کو شامل کرنے کا چیلنج درپیش ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ کابینہ کے وزرا کو تبدیل کریں یا وائٹ ہاؤس کے عملے میں رد و بدل کریں۔

صدر ٹرمپ دوسری مدت کے لیے ری پبلکن پارتی کے اُمیدوار ہیں۔
صدر ٹرمپ دوسری مدت کے لیے ری پبلکن پارتی کے اُمیدوار ہیں۔

اگر بائیڈن جیتے تو وہ کیا کریں گے؟

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں جو بائیڈن کو زیادہ کام کرنا ہو گا۔ کیوں کہ اگر وہ منتخب ہوئے تو اپنی ٹیم لائیں گے جس کے لیے اُنہیں انتظامیہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے علاوہ لگ بھگ چار ہزار سرکاری عہدوں پر تعیناتیاں کرنا ہوں گی۔ ان سرکاری محکموں میں دفاع اور خارجہ بھی شامل ہیں۔

جو بائیڈن کو انتقالِ اقتدار کے اس مرحلے میں ماضی کے تجربات کا فائدہ ہو گا کیوں کہ 2008 میں براک اوباما کے ساتھ بطور نائب صدر منتخب ہونے کے بعد اس عبوری عرصے میں وہ کام کر چکے ہیں۔

جو بائیڈن 2008 کے صدارتی انتخابات میں سابق صدر براک اوباما کے ساتھ نائب صدر منتخب ہوئے تھے۔
جو بائیڈن 2008 کے صدارتی انتخابات میں سابق صدر براک اوباما کے ساتھ نائب صدر منتخب ہوئے تھے۔

امریکہ میں صدارتی ٹرانزیشن ایکٹ کے مطابق جنرل سروسز اینڈ ایڈمنسٹریشن کا محکمہ بائیڈن اور کاملا ہیرس کی کامیابی کی صورت میں اُن کے ساتھ فوری تعاون کا پابند ہے جس کے تحت یہ محکمہ اُن کے عملے کو دفاتر کی فراہمی کے علاوہ دیگر ضروریات پوری کرے گا۔

امریکی قانون وائٹ ہاؤس اور دیگر متعلقہ محکموں کو پابند کرتا ہے کہ وہ الیکشن سے قبل ہی اقتدار کی منتقلی کے اس عبوری عرصے کے لیے منصوبہ بندی کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG