رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی مسلمانوں کا صدارتی انتخابات میں کردار، تجزیاتی رپورٹ


2000ء کے انتخابات میں امریکی مسلمانوں کی ایک غالب اکثریت نے وہائٹ ہاؤس میں داخلے کے لیے جارج ڈبلیو بش کی حمایت کی تھی، لیکن پچھلے تین انتخابات میں مسلمانوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کے نامزد امیدواروں کو ووٹ دیے ہیں۔

امریکی مسلمانوں کے بارے میں عمومی طور تاثر یہ ہی ہے کہ ان کا جھکاؤ فطری طورپر ری پبلیکن پارٹی کی جانب ہے۔ لیکن اب ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف ان کا رجحان بڑھتا رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک اُمیدوار ہیلری کلنٹن کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کرے گی۔

اسی بارے میں وائس آف امریکہ کے مسعود فریور نے ایک تجزیاتی رپورٹ تیار کی جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ وہ ووٹروں کے سیاسی رجحان میں تبدیلی کی کیا وجوہات ہو سکتی ہے۔

واشنگٹن ڈی سی کے مضافات میں واقع یہ مسجد ڈیموکریٹک پارٹی کے مضبوط گڑھ سے کہیں دور واقع ہے۔ دارالحکومت کے قریب ریاست ورجینیا کے شہر فالز چرچ کی مسجد دارالحجرہ میں آنے والے بہت سے لوگوں نے جو عقیدے اور خاندانی روايات کے حامی ہیں، ماضی میں ری پبلیکن پارٹی کے حق میں اپنا ووٹ ڈالا تھا۔

اب ان میں سے اکثر کا یہ کہنا ہے کہ وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزد صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کو صرف اس لیے ووٹ دیں گے تاکہ ان کے ری پبلیکن حریف کو انتخاب جیت کر وائٹ ہاؤس میں جانے سے روکا جا سکے۔

مسلم امریکی ووٹر عزمی رحمن کہتے ہیں کہ ’’ہم سب تقریباً اسی انداز میں سوچ رہے ہیں۔ جس طریقے سے ہمارے بارے میں پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، ہم اس سے لا تعلق نہیں رہ سکتے۔‘‘

ایک اور مسلمان خاتون ووٹر سارہ شورانی نے اپنے جذبات کا اظہار کچھ یوں کیا ’’سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ہم کسی ایسے شخص کو وائٹ ہاؤس نہ لائیں جو اسلام کے خوف میں مبتلا ہو۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ ان تمام مسلمانوں کو، جنہوں نے ووٹ دینے کے لیے اپنا اندراج نہیں کرایا، لازمی طور پر اپنا نام درج کرانا چاہیے تاکہ وہ ڈیموکریٹک پارٹی کو ووٹ دے سکیں۔‘‘

جمعہ کو دارالحجرہ کے لیے کام کرنے والی ایک خاتون بہن فائزہ دین نے خواتین ووٹروں کو ووٹروں کی فہرست میں اپنے نام کا انداج کرانے پر راغب کرنے کے لیے نوجوان رضاکاروں کے ایک گروپ کی قیادت کی۔ ان کی یہ کوشش عوامی سطح پر دس لاکھ مسلمان ووٹروں کے ناموں کا اندراج کرانے کی ملک گیر پیمانے کی مہم کا ایک حصہ ہے۔

’’یہ ایک اہم سال ہے۔ آپ کے سامنے ہیلری کلنٹن ہے اور یہ جذباتی شخص ڈونلڈ ٹرمپ ہے۔ یہ چیز بہت اہم ہے۔ اگر ہم ووٹ نہیں دیں گے تو ٹرمپ جیت سکتا ہے۔‘‘

گیانا میں پیدا ہونے والی فائزہ دین کی طرح، زیادہ تر امریکی مسلمان تارکین وطن ہیں۔ رائے عامہ کے جائزے یہ دکھاتے ہیں کہ مسلمانوں کی 35 لاکھ آبادی میں سے زیادہ تر کا جھکاؤ ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف ہے اور اس بارے میں ان کے خيالات و نظریات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

2000ء کے انتخابات میں امریکی مسلمانوں کی ایک غالب اکثریت نے وہائٹ ہاؤس میں داخلے کے لیے جارج ڈبلیو بش کی حمایت کی تھی، لیکن پچھلے تین انتخابات میں مسلمانوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کے نامزد امیدواروں کو ووٹ دیے ہیں۔

واشنگٹن میں قائم جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر جان ایسپوسٹیو کہتے ہیں کہ 2000 کا انتخاب ایک استثنائی معاملہ تھا۔

’’تاریخی لحاظ سے، ڈیموکریٹک پارٹی کو ری پبلیکن پارٹی کے مقابلے میں ایک ایسی عوامی جماعت سمجھا جاتا تھا جس میں عام لوگوں کی زیادہ نمائندگی ہے اور اب بھی بہت سے لوگ اسے انتظامیہ کی مراعات یافتہ طبقے کی ایک جماعت سمجھتے ہیں۔‘‘

ڈیموکریٹک پارٹی سے اختلاف میں شدت صرف ڈونلڈ ٹرمپ کی شعله بیانیوں سے پیدا ہوئی جسے مسلم مخالف سمجھا گیا ۔

ایسے میں جب کہ امریکی مسلمانوں کے ووٹوں کی تعداد بدستور بہت کم ہے، سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ فلوریڈا، اوہائیو، ورجینیا، مشی گن اور پنسلوینیا میں مسلمانوں کی بڑی آبادیاں صدارتی انتخابات میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

مسجد دارالحجرہ کے لیے کام کرنے والی خاتون فائزا دین کہ انتخابي نتائج کے حوالے سے ان ریاستوں میں جہاں ووٹوں کی صورتحال واضح نہیں ہے، اُن کے بقول وہاں مسلمان ووٹر کوئی تبدیلی لاسکتے ہیں۔ ’’جب کانٹے کا مقابلہ ہو رہا ہو تو خاص طور پر ان غیر واضح ریاستوں میں یہ ایک فی صد ووٹ بھی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔‘‘

لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح وقت گزرنے کے ساتھ مسلمانوں کی کمیونٹی سماجی اور اقتصادی لحاظ سے زیادہ متنوع ہو گی ان کی سیاسی وابستگیاں بھی مزید متنوع ہوں گی ۔اور یہی وجہ ہے جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر ایسپوسٹیو کہتے ہیں کہ یہ چیز ڈیموکریسی اور کمیونٹی دونوں کے لیے اچھی ہے۔

XS
SM
MD
LG