رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیلی فائرنگ سے 60 فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد سخت کشیدگی


ایک روز قبل اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی نماز جنازہ منگل کے روز ادا کی گئی جس میں غزہ کے ہزاروں مکین شریک ہوئے۔ ادھر غزہ اسرائیل سرحد پر اسرائیلی فوج چوکنہ رہی تاکہ فلسطینی احتجاج کے حتمی روز متوقع ہنگامہ آرائی سے نمٹا جا سکے۔

رائٹرز نے خبر دی ہے کہ پیر کے روز سرحد پر ہونے والے تشدد کے واقعات سنہ 2014 کے غزہ تنازع کے بعد فلسطینیوں کی جانب سےکیا گیا خونریز ترین احتجاج تھا جو بڑھتے بڑھتے شدید جھڑپوں کی صورت اختیار کرگیا، جو مظاہرہ امریکہ کےنئے سفارت خانے کے یروشلم میں افتتاح کے موقعے پر شروع ہوا۔

گیس کا گولہ لگنے سے ایک آٹھ برس کی بچی ہلاک ہوئی، جس کے بعد ہلاک ہونے والوں کی کُل تعداد بڑھ کر 60 ہوگئی ہے۔

بچی کے لواحقین نے بتایا ہے کہ وہ پیر کے روز احتجاجی کیمپ کے پاس کھڑی تھیں جب شدید گولہ باری کے بعد اُن کی سانس رُک گئی۔ فلسطینی طبی کارکنان کا کہنا ہے کہ گولیاں لگنے یا آنسو گیس چلائے جانے کے نتیجے میں 2200 سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے۔

فلسطینی راہنماؤں نے پیر کے روز ہونے والے واقعات کو خونریزی قرار دیا ہے، جب کہ احتجاج کرنے والوں کے خلاف گولیاں چلانے کے اسرائیلی حربے پر دنیا بھر سے اظہار تشویش اور مذمت کی گئی ہے۔

صورت حال کو زیر غور لانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہونے والا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں اور برادریوں کے تحفظ کے لیے اپنے بچاؤ کی خاطر عمل کر رہا ہے۔ اُس کے خاص اتحادی، امریکہ نے اُس کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔ دونوں کہنا ہے کہ ہنگامہ آرائی حماس کی شہ پر کی گئی، جو ساحلی پٹی پر حکمرانی کرنے والا اسلامی گروپ ہے۔

منگل کی صبح غزہ میں ماتمی جلوس نکالا گیا، جس میں فلسطینی پرچم لہرائے گئے جس میں بدلہ لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’اپنے خون اور دل و جان سے ہم شہدا کے نقش قدم پر چل رہے ہیں‘‘۔

اس خوف کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ ایسے میں جب چھ ہفتے تک کی احتجاجی مہم اپنی انتہا کو پہنچ رہی ہے، خونریزی کے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

روایتی طور پر فلسطینی 15 مئی کو ’یوم نقبہ‘ (تباہی) مناتے ہیں، جو سنہ 1948 میں یہودی ریاست بننے کے بعد اسرائیل اور اُس کے ہمسایہ ملکوں کے درمیان جھڑپوں کی یاد میں منایا جاتا ہے، جب لاکھوں لوگ علاقہ چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے۔

اس سے قبل موصولہ خبر کے مطابق، امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم باضابطہ منتقلی کے خلاف مظاہرہ کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے فلسطینیوں کی تعداد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 58 ہو گئی ہے۔

فلسطینی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ زخمیوں کی تعداد 2700 کے لگ بھگ ہے۔ یہ 2014 میں غزہ کی جنگ سے اب تک ایک روز میں ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

یروشلم میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے خلاف فلسطینوں کا مظاہرہ۔ 14 مئی 2018
یروشلم میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے خلاف فلسطینوں کا مظاہرہ۔ 14 مئی 2018

یہ ہلاکتیں اُس وقت ہوئیں جب ہزاروں فلسطینی امریکی سفارتخانے کی یروشلم منتقلی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

امریکی سفاتخانہ آج باقاعدہ طور پر تل ابیب سے یروشلم منتقل ہو گیا ہے۔

مبصرین نے اسرائیل کی طرف سے احتجاجی مظاہرین پر گولی چلانے کے اقدام پر سخت تنقید کی ہے۔ تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سیکورٹی کے حوالے سے ضروری تھا کیونکہ مظاہرین سرحدی باڑ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔

گولی چلانے کے علاوہ اسرائیلی فوج نے مظاہرین کی پچھلی صفوں پر آنسو گیس کے گولے بھی پھینکے۔ تاہم بتایا گیا ہے کہ اس سے مظاہرین کے اکٹھا ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑا اور وہ مسلسل وہاں جمع ہوتے رہے۔

یروشلم میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے خلاف فلسطینیوں کا مظاہرہ اور ان کے خلاف طاقت کا استعمال۔ 14 مئی 2018
یروشلم میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے خلاف فلسطینیوں کا مظاہرہ اور ان کے خلاف طاقت کا استعمال۔ 14 مئی 2018

مظاہرین نے باڑ کے دوسری جانب پتھر بھی پھینکے اور وہ یروشلم میں امریکی سفاتخانے کے رسمی افتتاح سے پہلے ٹائر جلا کر احتجاج کرنا چاہتے تھے۔ اس صورت حال میں غزہ کے بیشتر سکول اور کاروباری مراکز بند رہے۔

مظاہرین امریکی سفارتخانے کی یروشلم منتقلی پر احتجاج کرنے کے علاوہ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے وقت لاکھوں فلسطینیوں کو علاقے سے نکالے جانے یا خود وہاں سے بچ کر فرار ہونے کے واقعے کی یاد منانے کے لئے بھی اکٹھے ہوئے۔ اس واقعے کو ’’نکبا‘‘ یا ’’تباہی‘‘ سے موسوم کیا جاتا ہے۔

یروشلم میں امریکی سفارتخانہ فی الحال امریکی قونصلیٹ کی عمارت کے اندر قائم کیا گیا ہے۔ تاہم یروشلم میں مستقل سفارتخانے کی تعمیر کے لئے بڑی جگہ کی تلاش کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

ایک زخمی فلسطینی کو اسپتال پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 14 مئی 2018
ایک زخمی فلسطینی کو اسپتال پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 14 مئی 2018

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کریں گے۔ گزشتہ دسمبر میں صدر ٹرمپ نے امریکہ کی روایتی پالیسی کو تبدیل کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ اسی ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت کے ساتھ ایک قرارداد منظور کی جس میں صدر ٹرمپ کے یروشلم سے متعلق فیصلے کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

یروشلم میں امریکی سفاتخانے کے رسمی افتتاح سے پہلے آج صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے، ’’یہ اسرائیل کے لئے ایک عظیم دن ہے۔‘‘

فلسطینی مظاہرین کے خلاف اسرائیلی فورسز کا بڑے پیمانے پر طاقت کا استعمال۔ 14 مئی 2018
فلسطینی مظاہرین کے خلاف اسرائیلی فورسز کا بڑے پیمانے پر طاقت کا استعمال۔ 14 مئی 2018

امریکی وزیر خزانہ سٹیون منوچن امریکی سفارخانے کے افتتاح کیلئے یروشلم میں موجود ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ’’قومی سلامتی کیلئے اولین ترجیح ہے۔‘‘

اسرائیل نے 1980 میں ایک قانون پاس کیا جس میں تمام تر یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا گیا جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تصور کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG