رسائی کے لنکس

logo-print

سنتھیا رچی کے الزامات: امریکی سفارت خانے کا تبصرے سے گریز، رحمان ملک کا ہرجانے کا نوٹس


فائل فوٹو

پاکستان میں امریکی سفارت خانے نے امریکی شہری، بلاگر اور دستاویزی فلم کی پروڈیوسر سنتھیا ڈی رچی کے الزامات پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکی سفارت خانہ تمام امریکی شہریوں کی معاونت کرتا ہے تاہم نجی معلومات کے تحفظ کے باعث کسی ایک مخصوص کیس کے بارے میں تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔

اسلام آباد میں سفارت خانے کے ترجمان جوئے ویرئش نے وائس آف امریکہ کی طرف سے بھیجے گئے سوالات کے تحریری جوابات میں کہا کہ پاکستان میں امریکی سفارت خانہ تمام امریکی شہریوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرتا ہے۔

سنتھیا ڈی رچی کے معاملے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ نجی معلومات کے تحفظ کی بنا پر کسی ایک شہری کے بارے میں جس کا تعلق امریکی سفارت خانے کے ساتھ نہ ہو، تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔

فیس بک پر ویڈیو میں سنتھیا رچی نے کہا تھا کہ اس واقعے سے متعلق انہوں نے امریکی سفارت خانے کو آگاہ کیا تھا، لیکن اس وقت پاکستان اور امریکہ کے مابین پیچیدہ تعلقات کی وجہ سے موزوں ردِ عمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب اسامہ بن لادن کی ہلاکت ہوئی تھی جب کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات اچھے نہیں تھے۔

ان کے بقول اسی وجہ سے سفارت خانے نے بھی کوئی خاص ردِ عمل نہیں دیا۔

خیال رہے کہ جمعے کی شام ایک ویڈیو میں سنتھیا ڈی رچی نے الزام عائد کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما رحمٰن ملک نے کئی سال قبل انہیں اپنے گھر پر اس وقت جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جب وہ وزیر داخلہ تھجے۔ جب کہ انہوں نے سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق وزیرِ صحت مخدوم شہاب الدین پر ایوانِ صدر میں جسمانی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

رحمان ملک کا سینتھیا کو 50 کروڑ ہرجانے کا نوٹس

سابق وزیر داخلہ سینیٹر رحمان ملک کے وکلاء نے امریکی خاتون سنتیھیا رچی کو پچاس کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیا ہے۔

اسلام آباد میں رحمان ملک کے ترجمان ریاض علی طوری کی طرف سے میڈیا کو بھجوائے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ سینیٹر رحمان ملک نے اپنے قانونی نوٹس میں سنتھیا رچی کے لگائے گئے الزامات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیکر سختی سے تردید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لڑائی محترمہ شہید بینظیر بھٹو کی تکریم کی لڑائی ہے، جو کہ نہ صرف میری بلکہ پوری قوم کی قائد ہے۔ بینظیر بھٹو اور میری کردار کشی کے پیچھے کون سے عناصر ہیں، وقت آنے پر بے نقاب کروں گا۔ ان عناصر کو ان کا ماضی یاد دلاؤں گا کہ رہتی دنیا تک یاد رہے۔

رحمان ملک کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مجھے مسلسل جیل بھیجوانے و قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں، لیکن نہ میں کبھی کسی کے دباؤ میں آیا اور نہ کبھی آوں گا۔ میرا ضمیر اور میرا دامن صاف ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما یوسف رضا گیلانی بھی سنتھیا رچی کے الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنما مستقل یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ سنتھیا ڈی رچی کسی کے کہنے پر مہم چلا رہی ہیں۔

سنتھیا رچی کے معاملے پر پیپلز پارٹی رہنما اور سندھ کے وزیر سعید غنی کا کہنا ہے کہ ہمیں ملک کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے لیکن مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک خاتون کو سامنے لایا گیا ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں سعید غنی کا کہنا تھا کہ خاتون جو کہہ رہی ہیں، وقت ثابت کرے گا کہ کتنا سچ ہے۔

ان کے بقول اس وقت خاتون کی جھوٹی باتوں کو اتنی اہمیت دی جا رہی ہے کہ ہم کرونا وائرس اور ٹڈی دل کے حملے کو بھول گئے ہیں۔

سعید غنی نے سنتھیا ڈی رچی کا کردار مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی اسرائیل، تو کبھی بھارت جاتی رہی ہیں۔ اگر یہ خاتون سچی ہیں تو عدالت میں جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کی ایک عدالت نے امریکی صحافی سنتھیا ڈی رچی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 9 جون کو جواب طلب کیا ہے۔

واضح رہے کہ سنتھیا ڈی رچی کہہ چکی ہیں کہ وہ اب ہر طرح کی تحقیقات کے لیے تیار ہیں۔

پیپلز پارٹی اسلام آباد کے صدر شکیل عباسی نے امریکی صحافی سنتھیا ڈی رچی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کی تھی جس پر اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج جہانگیر اعوان نے سماعت کی۔

خیال رہے کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے ان کے خلاف ایف آئی اے سائبر ونگ اور ملک کے مختلف شہروں کے پولیس اسٹیشنز میں مقدمات کے اندراج کے لیے درخواستیں جمع کرائی گئی تھیں لیکن کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ امریکی صحافی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف مہم چلائی ہے جس پر ہم نے بے نظیر بھٹو کے خلاف نازیبا ٹوئٹ کرنے پر اندراج مقدمہ کی درخواستیں دائر کی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG