رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کا جنوبی سوڈان میں اپنا نمائندہ خصوصی بھیجنے کا فیصلہ


امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جمعہ کو رات دیر گئے کہا کہ سفارت کار ڈونلڈ بوتھ تشدد کے خاتمے کے لیے فوری طور پر جنوبی سوڈان جائیں گے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کے ایک نمائندہ خصوصی کو جنوبی سوڈان بھیج رہے ہیں تاکہ وہ وہاں مخالف دھڑوں کو بات چیت پر راغب کر سکیں۔

جان کیری نے جمعہ کو رات دیر گئے کہا کہ سفارت کار ڈونلڈ بوتھ تشدد کے خاتمے کے لیے فوری طور پر خطے میں جائیں گے۔

جنوبی سوڈان کے صدر سلوا کیر نے سابق نائب صدر ریئک مچار پر الزام لگایا ہے کہ اُنھوں نے بغاوت کی کوشش کی جس کے بعد ان جھڑپوں کا آغاز ہوا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی دونوں فریقوں پر زور دیا ہے کہ اس مسئلے کو فوری اور جلد حل کیا جائے اور متنبہ کیا کہ سیاسی تنازع دیگر علاقائی ممالک کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق جمعہ کو جنوبی سوڈان کے علاقے اکوبو میں اس کے ایک اڈے پر حملے میں گیارہ شہری اور امن فوج میں شامل دو اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل ان ہلاکتوں کی تعداد زیادہ بتائی گئی اور زخمیوں کو نکالنے کے لیے متاثر علاقے ’اکوبو‘ ہیلی کاپٹر بھی روانہ کیے گئے تھے۔

اقوام متحدہ کے امن مشن کے مطابق تشدد کا آغاز اُس وقت ہوا جب نیئور قبیلے سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ دو ہزار نوجوانوں نے اڈے کو گھیرے میں لے فائرنگ شروع کر دی۔

لگ بھگ 35,000 عام شہریوں نے جنوبی سوڈان میں اقوام متحدہ کے اڈوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

جنوبی سوڈان کی حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے دارالحکومت جوبا میں شروع ہونے والے اس تشدد میں کم از کم 500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعہ کو کہا کہ صدر سلوا کیر اور ملک کے سابق نائب صدر ریئک مچار ’غیر مشروط مذاکرات‘ پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

مسٹر مچار طویل عرصے سے صدر سلوا کیرا کے سیاسی حریف ہیں۔ جنوبی سوڈان کے صدر نے جولائی میں مسٹر مچار کو اُن کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا جس کے بعد سے وہ صدر سلوا کیر کو اُن کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG