رسائی کے لنکس

logo-print

افغان امن مذاکرات کے لیے حمایت جاری رکھیں گے: عمران خان


افغان امن عمل کے لیے امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خیل زاد کی وفد کے ہمراہ پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات

پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور پاکستان کی میزبانی میں ہو گا۔ جس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔ تاہم امریکی اور پاکستان حکام کی طرف سے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی ہے۔

امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے اپنے وفد کے ہمراہ جمعے کو پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے۔ وزیرِ اعظم کے دفر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق خلیل زاد نے عمران خان کو افغان امن و مصالحت کے سلسلے میں خطے کے دیگر ملکوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنے دوروں کے بارے میں بتایا۔

بیان کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان نے افغان امن مذاکرات کے عمل میں تعاون کے لیے پاکستان کے عزم کو دہرایا۔

اس سے پہلے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور زلمے خیل زاد کے درمیان ملاقات میں افغان عمل و مصالحت کے لیے علاقائی ممالک بالخصوص پاکستان کے اہم کردار کے بارے میں تبادلہ کیا ہے۔

خلیل زاد نے ایک ٹوئٹر بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے افغان امن عمل کے لیے پاکستان کی حمایت کی یقین دھانی کروائی ہے اور وہ اس حوالے سے ٹھوس پیش رفت کے منتظر ہیں۔

قبل ازیں پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے ٹوئٹر پر کہا کہ خلیل زاد نے پاکستانی وزیر خارجہ کو افغان امن ومصالحت کے لیے خطے کے دیگر ملکوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے امریکی سفارت کار کو بتایا کہ پاکستان افغان عمل و مصالحت کے لیے امریکی کوششوں کی حمایت کرے گا۔

خلیل زاد خطے کے چار ملکوں کے دورے کے آخری مرحلے میں بھارت، چین اور افغانستان سے ہوتے ہوے جمعرات کو اسلام آباد پہنچے۔ خلیل زاد ایک ایسے وقت پاکستان آئے جب افغان طالبان سے بات چیت کا عمل تعطل کا شکار ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہناہے کہنا ہے کہ امریکہ اس بات کا خواہاں ہے کہ طالبان کو کابل حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت پر آمادہ کرنے کے لیے اسلام آباد طالبان پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔

امریکہ طالبان پر زور دے رہا ہے کہ وہ افغانستان تنازع کے حل اور سیاسی تصفیے کے لیے کابل حکومت سے بات چیت کریں تاہم طالبان کا موقف ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بغیر افغان حکومت سے بات چیت نہیں کریں گے۔

زلمے خلیل زاد دو ہفتوں پر محیط خطے کے دورے کے آخری مرحلے میں جمعرات کو پاکستان پہنچے جہاں انہوں نے پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنوعہ اور پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے وفود کی سطح بات چیت میں افغانستان میں امن و مصالحت کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔

امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی قیادت میں امریکی وفد نے گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں طالبان کے نمائندہ سے بات چیت کی جس میں افغانستان میں جنگ بندی، عبوری حکومت کا قیام، غیر ملکی افواج کا انخلا اور دیگر امور پر بات چیت ہوئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG