رسائی کے لنکس

logo-print

ہالووین: جب گلیوں گلیوں خوف کی وادی سجتی ہے


برطانیہ اور امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں 31 اکتوبر کو زمین پر روحوں کی آمد کا دن کہا جاتا ہے۔ اس شب لوگ روحوں کو خوش کرنے کے لیےخود بھی ڈراونا بہروپ دھار لیتے ہیں۔

کسی ڈراونی فلم کے سین کی طرح اگر رات کی گہری تاریکی میں چڑیل یا پھر کوئی بھٹکی ہوئی روح آپ کو راہ چلتے ہوئے اچانک سے پیچھے سے دبوچ لے تو کیا آپ اپنے خوف پر قابو پا سکیں گے؟ کیا ایسا کوئی تجربہ آپ کے ساتھ ہوا ہے؟

اگر نہیں تو آج ہم آپ کو خوف کی ایک ایسی نگری میں لیے چلتے ہیں جہاں ہر سال اکتوبر کی آخری رات خوفناک رات میں تبدیل ہو جاتی ہے. اس رات گھروں، دوکانوں، بازاروں کو بھیانک اشکال والی چیزوں سے سجا دیا جاتا ہے. بلکہ اکتوبر کے پورے مہینے میں ہرشہر میں خوف کا کاروبار خوب چلتا ہے. دوکاندار خوف کا سامان بیچتا ہے اور خریدار اپنی مرضی سےخوف خریدتا ہے۔

اس روز لوگ ڈر کو مات دینے کے لیے چھوٹے بڑے بھوت پریت، چڑیلیں،زامبی، مسالہ لگی ہوئی لاشیں اور مردہ انسانوں کے ڈھانچے کےلبادے میں گلیوں گلیوں پھرتے ہیں. یہ بھٹکتی ہوئی روحیں ہر گھر کے دروازے پر دستک دیتی ہیں اور ایک فرمائش کرتی ہیں 'ٹرک آر ٹریٹنگ' یعنی ٹافیاں دو یا پھر ان کی شرارت جھیلنے کے لیے تیار ہوجاؤ۔

برطانیہ اور امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں 31 اکتوبر کو زمین پر روحوں کی آمد کا دن کہا جاتا ہے. اس شب لوگ روحوں کو خوش کرنے کے لیےخودبھی ڈراونا روپ دھار لیتے ہیں. مغربی دنیا میں اس قدیم مذہبی تہوار کو 'ہا لووین فیسٹیول' کے نام سے منایا جاتا ہے۔

عام طور پر ہالووین کے تہوار کو امریکی تہوار سمجھا جاتا ہے جو بہت بعد میں یورپ کے لوگوں میں پہنچا تھا. اس حوالے سے مورخین کہتے ہیں کہ ہالووین کا تہوار 1921ء میں امریکی ریاست منی سوٹا میں پہلی بار باقاعدہ طور پرمنایا گیا تھا جو بعد میں ایک بڑے تہوار کے طور پر دنیا بھر میں منایا جانے لگا۔

بعض روایتوں کے مطابق اس تہوار کی جڑیں عیسائیت اور سیمہین سے ملتی ہیں۔ جبکہ تاریخی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو پتا لگتا ہے کہ ہالووین قبل از مسیح دور کا ایک تہوار تھا جس کی ابتداء یورپ میں ہوئی تھی۔ اس وقت آئر لینڈ اور فرانس کے کسان اسے 'ہاروسٹ فیسٹیول ' کے طور پر مناتے تھے۔ اس زمانے میں ہالووین منانے والے قدیم قبائل کا عقیدہ یہ تھا کہ موسم سرما درحقیقت ان کے لیے موت کا پیغام ہے کیونکہ ان کے ہاں اکثر اموات سردیوں میں ہوتی تھیں۔

قدیم قبائل اس بات پریقین رکھتے تھے کہ نئے سال کے آغاز سے پہلےاکتوبر کی آخری شب ایک ایسی رات ہےجس میں روحیں زمین پر اترنے کے لیے آزاد ہوتی ہیں اور ان کی جان ومال کو نقصان پہنچانے کی نیت سے زمین پر اترتی ہیں۔ لہذا اس رات قبائل روحوں کو خوش کرنے کے لیےجانوروں کی کھال کے لبادے اور سینگ لگاتے تھے اور رات کی گہری تاریکی میں آگ کے الاؤ جلاتے تھے۔

ہالووین تہوار کے ساتھ پمپکن یا (پیٹھا کدو) کو قریبی نسبت ہے۔ ہالووین سے پیٹھا کدو کا کیا تعلق ہے؟ اس بارے میں مورخین کہتے ہیں کہ آئرش کسانوں نے شلجم اور پمپکن کی سبزیوں کو پہلی بار اس تہوار کے لیے بھوت جیسی شکل میں تراشا تھا جسے 'جیک او لینٹرن' کا نام دیا تھا۔

جیک او لینٹرن تیار کرنےکے لیے پیٹھے کدو کا سارا گودا نکال کر اسے خالی کیا جاتا ہے اور پھراس پر ڈراونا چہرہ تراشا جاتا ہے جس کے بعدخالی کدو کے اندر موم بتی یا برقی قمقمہ جلا کر گھر کے باہر رکھ دیا جاتا ہے۔ پمپکن سے صرف جیک او لینٹرن کی تیاری کا کام نہیں لیا جاتا ہےبلکہ گھروں میں پیٹھا کدو سے مزے مزے کے پکوان تیار کئے جاتے ہیں۔ مثلاً پمپکن پائی، پیٹھا کدو کی میٹھائی، حلوے اور بسکٹ وغیرہ وغیرہ۔

کاروباری مراکز میں ہالوین کے مناظر اکتوبر کا مہینہ شروع ہوتے ہیں نظر آنے لگتے ہیں بہت سے ہوٹل اور میوزیم اس رات کی دہشت بڑھانے کے لیے ہالووین کی تھیم پرسجائے جاتے ہیں جہاں لوگ بھاری بھاری رقموں کے ٹکٹ ادا کرنے اپنے خوف کا مقابلہ کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ اس رات بڑے شہروں میں ہالووین پریڈ نکالی جاتی ہے۔ گھروں اور ہوٹلوں میں ہالووین کی پارٹیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے جبکہ ہالووین پر ہارر فلم دیکھنا بھی اس تہوار کی ایک اہم ترین سرگرمی میں شامل ہے۔

لیکن دنیا کے مختلف روایتی تہواروں کی طرح شاید ہالووین کا تہوار بھی اب ایک کمرشل فیسٹیول یا کاروباری ضرورت بن کر رہ گیا ہے اور ان دنوں اس تہوار کی اصل روح سے اس کے منانے والے بھی لاعلم معلوم ہوتے ہیں۔

اس رات کی ایک عجیب بات یہ ہے کہ اکثر ایسےگھروں کے دروازے بھی بچوں کی ٹرک آر ٹریٹنگ کے مطالبے پر کھل جاتے جنھیں شاید کبھی کسی کا انتظار نہیں ہوتا ہے۔ خاص طور پرگھروں میں تنہا رہنے والے بزرگ افراد اپنے محلے کے بچوں کا مطالبہ پورا کرنے کے لیے سر شام سے ہی دروازے سے قریب کرسی رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں اور دستک کی پہلی آواز پر مٹھیوں میں ٹافیاں بھر کر مسکرا کر دروازہ کھول دیتے ہیں۔ انھیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی ہے کہ ٹافیوں اور چاکلیٹ مانگنے والا بچہ کون ہے؟ کیا وہ ان کےعقیدے کا ہے بھی کہ نہیں؟

برسوں سے ہالووین کی شام میرے لیے ایک دلچسپ شام رہی ہے۔ اس رات گلیوں محلوں میں بچوں کے دم سے خوب رونق لگی رہتی ہے۔ بچے ٹافیاں جمع کرنے کے لیے ٹولیوں کی شکل میں گھروں سے نکلتے ہیں لیکن بچے چونکہ نادان ہوتے ہیں اس لیے نہیں جانتے ہیں کہ کون سے گھر کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیئے اور کون سے دروازے پر دستک نہیں دینی چاہیے۔

تہوار کی رات میں بہت سے لوگ بچوں کے معصوم مطالبے سے بچنے کے لیے اپنے گھروں کی تمام بتیاں گل کر دیتے ہیں تاکہ بچے سمجھیں کہ گھر میں کوئی نہیں ہے۔ کچھ پڑوسی ایسے بھی ہوتے ہیں جو رات میں دروازہ کھٹکھٹا نے پرغصے میں لال پیلے ہو کر بچوں پر برس پڑتے ہیں۔ بلکہ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگ کھلے الفاظ میں یہ کہہ کر بچوں کو خالی ہاتھ لوٹا دیتے ہیں کہ یہ ان کا تہوار نہیں ہے۔

​برطانیہ ایک کثیر الثقافتی معاشرہ ہے جہاں مختلف قومیتوں اور عقیدے کے حامل تارکین وطن ایک ہی ساتھ ایک ہی اسکول اور گلی یا محلے میں پل بڑھ کر جوان ہوتے ہیں۔ بچپن سے ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں میں ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ تہواروں پر ایک دوسرے کو مبارکبادیں دیتے ہیں۔ اتنی رواداری اور اپنائیت ہونے کے باوجود روایتی اقدار سے بندھے ہوئے لوگوں کے نزدیک دوسروں کےتہواروں کو اپنانا بالکل مختلف بات ہوتی ہے۔ لیکن وہ یہ بھی اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اپنے کسی دوست یا پڑوسی کے عقیدے یا تہوار کا احترام کرنا بھی بالکل الگ بات ہے۔

XS
SM
MD
LG