رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ اور یورپی رہنماؤں کا روس پر مزید پابندیوں کا انتباہ


یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو کہتے ہیں کہ کیئف کی طرف سے روس نواز علیحدگی پسندوں کی سنی جانے والی ٹیلی فون کالز سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ لوگ ماریوپول پر ہونے والے حملے کے ذمے دار ہیں۔

یوکرین کے مشرقی خطے میں روس نواز باغیوں کی طرف سے نئے حملوں کے بعد امریکہ کے صدر براک اوباما اور یورپی رہنماؤں نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا انتباہ کیا ہے۔

دو روز قبل ساحلی شہر ماریوپول کی ایک مارکیٹ اور رہائشی عمارتوں پر راکٹ حملے میں کم ازکم 30 افراد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

بھارت کے سرکاری دورے میں مصروف امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ اس حملے کے تناظر میں ماسکو پر دباؤ بڑھائیں گے۔

"ہمیں جنگ بندی کی اس تازہ مخالفت اور علیحدگی پسندوں کی طرف سے روس کی حمایت، روسی اسلحے، روسی مالی اعانت، روسی تربیت اور روس کے فوجیوں کے ہمراہ کی جانے والی جارحیت پر شدید تشویش ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ پہلے کی طرح اب بھی روس پر دباؤ بڑھانے کا طریقہ استعمال کرے گا اور "عسکری تصادم کی غیر موجودگی میں ہم ان دیگر اقدامات پر بھی غور کریں گے جس سے اس معاملے پر توجہ دی جا سکتی ہے۔"

بعض یورپی رہنما حالیہ دنوں میں ماسکو کے خلاف اقتصادی پابندیاں نرم کرنے کا تذکرہ کر چکے ہیں لیکن یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ " ایک بار پھر ایسی سہولت سے جارحیت کرنے والوں کو مزید پرتشدد کارروائیاں کرنے میں حوصلہ افزائی کرے گی۔ وقت آگیا ہے کہ ہمیں اپنی پالیسیاں حقیقت کو مدنظر رکھ کر بنانی ہیں نہ کہ کسی سراب کو دیکھ کر۔"

یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو کہتے ہیں کہ کیئف کی طرف سے روس نواز علیحدگی پسندوں کی سنی جانے والی ٹیلی فون کالز سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ لوگ ماریوپول پر ہونے والے حملے کے ذمے دار ہیں۔

ماریوپول روس اور گزشتہ سال ہی روس کے ساتھ الحاق کرنے والے جزیرہ نما کرائمیا کے درمیان واقع ہے۔ اس علاقے میں تازہ لڑائیوں کے بعد ان خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ روس خشکی کے راستے کرائمیا تک رسائی کے لیے اس شہر پر قبضہ کر سکتا ہے۔

دریں اثناء روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈیریکا موگیرینی اور امریکی وزیرخارجہ جان کیری کو الگ الگ فون کیا اور کہا کہ کیئف کی فورسز مشرقی یوکرین میں لڑائی میں شدت کی ذمہ دار ہیں۔

XS
SM
MD
LG