رسائی کے لنکس

logo-print

میزائل تجربے پر ایران کے خلاف 'مناسب کارروائی' کا مطالبہ


سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1929 ایران کو ایسے بیلسٹک میزائلوں کے تجربے سے روکتی ہے جو کہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی اقوام متحدہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ میزائل کا تجربہ کرنے پر ایران کے خلاف "مناسب کارروائی" کرے کیونکہ یہ تجربہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے سنگین خلاف ورزی ہے۔

اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سفیر میتھیو ریکروفٹ کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں کوئی بھی اقدام تکنیکی ماہرین کی طرف سے اس تجربے کے جائزے پر منحصر ہوگا۔

"ہمارے نزدیک یہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے جو کہ ایران کے جوہری معاہدے کے نافذ العمل ہونے کے بعد بھی لاگو ہوتی ہے۔ یہ بہت اہم ہے کہ (اقوام متحدہ کی) تعزیراتی کمیٹی اس کا بغور جائزہ لے کر ہمیں بتائے۔"

قرارداد نمبر 1929 ایران کو ایسے بیلسٹک میزائلوں کے تجربے سے روکتی ہے جو کہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی "روئٹرز" نے چاروں ملکوں کی طرف سے تعزیراتی کمیٹی کو لکھے گئے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے "یہ میزائل جوہری ہتھیار لے جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔"

ایران کے خلاف کوئی بھی پابندی عائد کیا جانا سلامتی کونسل کے دیگر دو ملکوں (روس، چین) کی حمایت حاصل ہونے مشروط ہے۔

ریکروفٹ کا کہنا تھا کہ کونسل کے دیگر ارکان خود اپنا موقف بیان کریں گے، " لیکن میرا خیال ہے کہ ہر کسی کو ایران کے جوہری معاہدے کی اہمیت کا ادراک ہے۔ ہم تمام فریقین کی طرف سے اس کا مناسب، شفاف اور مکمل نفاذ چاہتے ہیں۔"

رواں سال جولائی میں امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس، چین اور جرمنی کے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا تھا جس کے پہلے مرحلے پر عملدرآمد گزشتہ اتوار کو شروع ہو گیا ہے۔ اس کے تحت ایران کو اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے عوض پابندیاں سے چھٹکارا حاصل ہو سکے گا۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف یہ کہہ چکے ہیں کہ "اسلامی جمہوریہ ایران کا کوئی بھی میزائل جوہری صلاحیت کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا۔"

XS
SM
MD
LG