رسائی کے لنکس

بحرین: حقوقِ انسانی کے جرم میں سزا، امریکہ کا اظہارِ مایوسی


نبیل رجب

محکمہٴ خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ’’ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کہیں بھی، کسی کو اپنے انسانی حقوق یا بنیادی آزادی کے اظہار پر سزا نہیں دی جانی چاہیئے، جس میں اظہار خیال اور پُرامن اجتماع کی آزادی شامل ہے‘‘

بحرین کے حقوقِ انسانی کے سرگرم کارکن، نبیل رجب کو سنائی گئی دو برس کی قید کی سزا پر امریکہ نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

ایک بیان میں ،امریکی محکمہٴ خارجہ کی ترجمان، ہیدر نوئرٹ نے کہا ہے کہ ’’ہم اُن کی رہائی کا اپنا پچھلا مطالبہ دہراتے ہیں‘‘۔

ترجمان نے کہا ہے کہ’’ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کہیں بھی، کسی کو اپنے انسانی حقوق یا بنیادی آزادی کے اظہار پر سزا نہیں دی جانی چاہیئے، جس میں اظہار خیال اور پُرامن اجتماع کی آزادی شامل ہے‘‘۔

ہیدر نوئرٹ نے کہا ہے کہ ’’ہمارے خیال میں اپنی رائے کا اظہار اور اختلاف رائے سے معاشرے کمزور نہیں مضبوط ہوتے ہیں؛ اور یہ کہ اختلاف رائے کا انداز اپنانے سے معاشرے میں رواداری اور سب کی شمولیت کو فروغ حاصل ہوتا ہے‘‘۔

ترجمان نے کہا ہے کہ ’’نبیل رجب کے معاملے میں ہم نے بارہا اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور ہم حکومتِ بحرین سے بھرپور مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے اور انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کی حرمت کے تقاضے پورے کریں، جن میں اظہار رائے کی آزادی پیش پیش ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG