رسائی کے لنکس

logo-print

آسٹریلوی شہری کا ملک میں مقدمے کا سامنا کرنے کا اعلان متوقع


آسٹریلوی شہری کا ملک میں مقدمے کا سامنا کرنے کا اعلان متوقع

ایک نوجوان لڑکی کو نقلی بم سے خوفزدہ کرنے والے مفرور آسٹریلوی باشندے نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ امریکہ سے اپنے ملک واپس آکر خود پر لگائے گئے الزامات کا سامنا کرے گا۔

پال ڈگلس پیٹر ز بدھ کو امریکی ریاست کنٹکی کی ایک عدالت میں پیش ہورہا ہے جہاں توقع ہے کہ وہ اپنے اس فیصلے کا اعلان کرے گا۔وکیل تھامس کلے نے اپنے آسٹریلوی موکل کے ملک بدری کے خلاف مقدمہ نہ لڑنے کے فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ کنٹکی میں سماعت کے بعد آسٹریلوی پولیس پیٹرزکو اپنے ساتھ آسٹریلیا لے جائے گی جہاں اس پر مقدمہ چلایا جائے گا۔

امریکہ کی عدالت میں موجود دستاویزات کے مطابق پچاس سالہ پیٹرز مبینہ طور پر تین اگست کو سڈنی میں اٹھارہ سالہ میڈیلین پُلوَرکے گھر میں داخل ہوا اور اس کے گلے سے ایک آلہ باندھتے ہوئے متنبہ کیا کہ اگرلڑکی نے حرکت کی تو یہ بم پھٹ جائے گا۔ پیٹرز نے وہاں لڑکی کے مالدار والدین کے لیے ایک رقعہ بھی چھوڑا جس میں تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

میڈیلین نے تقریباً اس آلے کے ساتھ دس گھنٹے تک خوف میں گزارے تاوقتیکہ بم ناکارہ بنانے والے عملے نے اس آلے کو لڑکی کے گلے سے علیحدہ کیااور جس پر معلوم ہوا کہ یہ ایک نقلی بم ہے۔

عدالتی دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پیٹرز کسی زمانے میں اس لڑکی کے والد سے وابستہ کمپنی میں کام کرتا رہا ہے۔ اسے 15اگست کو کنٹکی میں اس کی سابقہ بیوی کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG