رسائی کے لنکس

کرکوک کی صورت حال کا ایران اور داعش کو فائدہ ہوگا: امریکہ


بشیقہ، عراق

قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’’کشیدگی بڑھنے سے فائدہ دو حلقوں کا ہوگا، ایک داعش دوسرے ایرانی پاسداران انقلاب۔۔ جس صورت حال سے بچنے کی اشد ضرورت ہے‘‘

امریکی حکام کو یہ پریشانی لاحق ہے کہ حکومتِ عراق اور عراقی کُرد اہل کاروں کے مابین تناؤ سے دو فریق کا فائدہ ہوگا، یعنی داعش کے دہشت گرد گروپ اور ایران کا۔ امریکہ اِس بات کا کوشاں ہے کہ خطے میں شدت پسندی اور دہشت گردی پر قابو پایا جائے۔

اب تک، کُرد پیشمرگہ افواج میدانِ جنگ سے دستبردار ہونے پر تیار لگتی ہیں، جو فوجی اڈے اور چوکیاں خالی کر رہی ہیں، ایسے میں جب عراقی افواج شمالی عراق میں کُرد خودمختار علاقے کے حصوں پر دوبارہ قبضے کے حصول کے لیے فوری ہاتھ پیر مار رہی ہیں۔

واشنگٹن میں اس انتباہ کا بارہا عندیہ دیا گیا ہے، جس کا تعلق اُس تشویش پر مبنی ہے جو اس کشیدگی کے بڑھنے سے دوچار کر سکتی ہے۔

قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’’کشیدگی بڑھنے سے فائدہ دو حلقوں کا ہوگا، ایک داعش دوسرے ایرانی پاسداران انقلاب۔۔ جس صورت حال سے بچنے کی اشد ضرورت ہے‘‘۔

اہل کار نے مزید کہا کہ ’’داعش کو شکست فاش دینے کے لیے ضرورت اِس بات کی ہے کہ امریکہ، عراق کی حکومت، کُرد علاقائی حکومت اور ہمارا سار اتحاد متحد ہو کر اپنی ترجیحات کا تعین کرے‘‘۔

امریکی انٹیلی جنس اور فوجی اہل کاروں نے متنبہ کیا ہے کہ اپنی خودساختہ خلافت کی بربادی کے باوجود، داعش اب بھی توانا ہے، جس کے لڑاکا جال اور کارندے کرکوک اور عراقی دیہات میں موجود ہیں۔ اور یہ حلقے خبردار کرتے آئے ہیں کہ طویل مدت سے یہی گروپ عراق کی آبادی کے داخلی اختلافات اور شکایات کا کامیابی سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔

اہل کار کہتے ہیں کہ فوری اور سب سے بڑی تشویش ایران سے لاحق ہو سکتی ہے۔

کُرد حکام نے گذشتہ ہفتے ایران پر الزام لگایا کہ اُس نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی ’قدس فورس‘ کے سربراہ، قاسم سلیمانی اور دیگر اہل کاروں کو عراقی کُردستان بھیجا ہے، تاکہ کرکوک سے انخلا کے لیے کرد افواج پر دباؤ بڑھایا جاسکے۔

کوکوک اور اُس کے مضافات سے موصول ہونے والی تصاویر اور وڈیوز سے پتا چلتا ہے کہ ایرانی شیعہ ملیشیاؤں کے حمایت یافتہ ارکان دکھائی دیتے ہیں، جو عراق کے ’پاپولر موبلائزیشن یونٹس‘ کا ایک جُزو ہیں، جو شہر کے مضافات میں خوشیاں منا رہے ہیں۔

شاید سب سے نمایاں ترین ’بدر تنظیم‘ ہے، جس کا سربراہ، ہادی الامیری، دبیس سے موصول ہونے والی تصویر میں دکھائی دیتا ہے، جو کرکوک کے نشیب کا علاقہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG