رسائی کے لنکس

logo-print

کانگریس کی منظور کردہ غیر ملکی امداد روکنے اور چھان بین کا حکم


آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ (او ایم بی) کے سربراہ، مِک ملوانی اخباری کانفرنس کرتے ہوئے (فائل)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دو سرکاری اداروں کو حکم دیا ہے کہ جب تک نظرثانی مکمل نہیں ہوجاتی، اربوں ڈالر مالیت کی غیر ملکی امداد منجمد کردی جائے، جب کہ کانگریس ان رقوم کی فراہمی کی منظوری دے چکا ہے۔

آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ (او ایم بی) نے امریکی محکمہ خارجہ اور بین الاقوامی ترقی کے امریکی ادارے کو احکامات جاری کیے ہیں کہ ’’ذمے نہ لی گئی غیر ملکی امداد کا حساب دیا جائے، اور وہ رقوم خرچ نہ کی جائیں جنھیں سرکاری طور پر خاص مقاصد کے لیے مختص نہیں کیا گیا‘‘۔

’او ایم بی‘ کی جانب سے جن 10 مدوں کو منجمد کرنے کے لیے کہا گیا ہے ان میں بین الاقوامی صحت، منشیات اور امن کار کام سے متعلق پروجیکٹس اور ترقیاتی اعانت کے پروگرام شامل ہیں۔

یہ حکم نامہ گذشتہ اختتام ہفتہ ان اداروں کے حوالے کیا گیا۔ حکم نامے کے ناقدین کے اندازے کے مطابق، اس اقدام کے نتیجے میں دونوں اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ دو سے چار ارب ڈالر مالیت کی فنڈنگ روک دیں۔

چھان بین کی جانے والی رقم مالی سال 2018اور 2019 کے لیے ہے، اور اگر اسے جاری مالی سال کے اندر اندر خرچ نہ کیا گیا تو ستمبر کی 30 تاریخ کو یہ غیر استعمال شدہ رقم تصور ہوگی۔
گذشتہ اختتام ہفتہ جاری ہونے والا یہ حکم نامہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کانگریس نو ستمبر تک تعطیلات پر ہے، اس لیے قانون ساز اس اقدام کو روکنے کے حوالے سے کچھ نہیں کر سکتے۔

ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے امور خارجہ کے سربراہ، ایلیٹ اینگل نے کہا ہے کہ ’’انتظامیہ کی کانگریس سے نفرت مثالی ہے‘‘۔

بقول ان کے، ’’جب کانگریس یہ فیصلہ کرتی ہے کہ غیر ملکی امداد کی مد میں کتنے پیسے خرچ کیے جائیں، تو یہ مشورہ نہیں۔ یہ قانون ہوتا ہے، جس کی آئین پاسداری کرتا ہے‘‘۔

ڈیموکریٹک قانون ساز نے مزید کہا کہ ریپبلیکن انتظامیہ کا حکم نامہ ’’امریکی اقدار اور قیادت کو عالمگیر سطح پر فروغ دینے کی امریکی استعداد کے لیے تباہ کن امر ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG