رسائی کے لنکس

غیر ملکی طالب علم، امریکی معیشت کا ستون ہیں


یونیورسٹی آف ساتھ کیرولینا (فائل)
یونیورسٹی آف ساتھ کیرولینا (فائل)

امریکہ آ کر تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طالب علموں کی وجہ سے امریکی معیشت میں اربوں ڈالر کیساتھ ہزاروں ملازمتیں بھی فراہم ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ طالب علم، بین القوامی سفارت کاری کی ایک اہم کنجی ہیں۔ تاہم انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن اِن واشنگٹن کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ طالب علم اب اعلیٰ تعلیم کیلئے دنیا کے دیگر ملکوں کی جانب دیکھ رہے ہیں۔

دنیا میں سب سے زیادہ غیر ملکی طالب علموں کی منزل اب بھی امریکہ ہےجہاں دس لاکھ نوجوان حصول تعلیم کیلئے آتے ہیں، اس کے بعد برطانیہ کا نمبر آتا ہے جہاں اس سے نصف تعداد تعلیم حاصل کرتی ہے۔ تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ دس برس تک چوٹی پر رہنے کے بعد، اب حصول تعلیم کیلئے آنے والی درخواستوں میں کمی ہو رہی ہے، اور اس کی وجہ یہاں کے تعلیمی اخراجات اور سیاسی ماحول ہے۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے، تعلیم اور ثقافتی أمور سے متعلق نائب معاون وزیر خارجہ ماری روئیس کا کہنا ہے کہ انہیں پتہ نہیں کہ کسی کو اس بات کا علم ہے کہ امریکہ تسلسل کیساتھ عالمی سطح پر ایک چوتھائی غیر ملکی طالب علموں کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ یہ حیران کن ہونے کے ساتھ ساتھ خوشی کی بات ہے۔

تاہم انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن اِن واشنگٹن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اس تعداد میں کمی ہو رہی ہے۔ کیمپَس لائف اینڈ ایکسی لینس ایٹ امیریکن یونیورسٹی کی نائب صدر فینٹا او کہتی ہیں کہ امریکہ آنے والے طالب علموں کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے اور یہ تیزی سے چھہ فیصد کم ہوئی ہے جو کہ بہت سے عناصر کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اس کی وجہ صرف تعلیمی اخراجات اور سیاسی ماحول ہی نہیں بلکہ امیگریشن اور ویزے کے حصول میں مشکلات اور ان طالب علموں کا تحفظ بھی ہیں۔

چند طالب علموں کا کہنا ہے کہ وہ محسوس کرتے ہیں جیسے انہیں امریکہ میں پسند نہیں کیا جاتا، جس کا فائدہ، کینیڈا، چین، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور یورپ اٹھا رہے ہیں، سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے جارج واشنٹن یونویرسٹی کے طالب علم، احمد شہری کہتے ہیں کہ ذاتی طور پر انہیں ویزا حاصل کرنے کیلئے دس منٹ انتظار کرنا پڑا کیونکہ امریکی حکام یا تو آپکو فوراً ویزا دے دیتے ہیں یا انکار کر دیتے ہیں، اور یا پھر آپ سے کہتے ہیں کہ انتظار کرو، اور اس انتطار کی کوئی مدت نہیں ہے۔

عدم تحفظ کا احساس بھی ایک عُنصر ہے، جسے حالیہ واقعات نے ہوا دی ہے۔ اس بارے میں امریکن یونیورسٹی کے طالب علم، ابھیلاش پراسان کہتے ہیں کہ گزشتہ سال، ان کے خیال میں ریاست کینساس میں دو تین بھارتی ہلاک ہوئے تھے۔ انہیں غلطی سے مشرق وسطی کے باشندے خیال کیا گیا تھا، اور یہ بھارت میں بہت بڑی خبر تھی۔ ابھیلاش کہتے ہیں کہ سکھ طالب علموں کو اکثر مسلمان خیال جاتا ہے، اور ان کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم کا ارتکاب ہوتا ہے۔

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ غیر ملکی طالب علم ملکی معیشت اور سفارت کاری کے اہم ستون ہیں۔ ماری روئیس نے بتایا کہ گزشتہ برس، غیر ملکی طالب علموں نے امریکی معیشت میں بیالیس ارب ڈالر کا حصہ ڈالا ، اور ان کی وجہ سے امریکہ میں ساڑھے چار لاکھ ملازمتیں پیدا ہوئیں ہوئیں۔

ماہرین تعلیم نے کہا ہے کہ انہوں نے غیر ملکی طالب علموں کو زیادہ سے زیادہ داخلہ دینے کیلئے کوششیں تیز کر دی ہیں اور وہ انہیں بتا رہے ہیں کہ امریکہ میں ان کو خوش آمدید کہا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG