رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا میں امریکی شہری کی رہائی ’کچھ نہیں کر سکا‘: روڈمین


ڈینس روڈ مین نے پیر کو بتایا کہ وہ اس بات پر معذرت خواہ ہیں کہ وہ شمالی کوریا میں قید امریکی کینیتھ بئی کی رہائی کے لیے کچھ نہیں کر سکے۔

امریکہ کے سابق باسکٹ بال اسٹار ڈینش روڈمین اور اُن کے ہمراہ شمالی کوریا جانے والے کھلاڑی چین کے شہر بیجنگ پہنچے جہاں سے وہ اپنے ملک واپس روانہ ہوں گے۔

روڈمین اور دیگر کھلاڑی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی سالگرہ کے موقع پر گزشتہ بدھ کو نمائشی میچ کھلینے کے لیے پیانگ یانگ گئے تھے۔

ڈینس روڈ مین نے پیر کو بتایا کہ وہ اس بات پر معذرت خواہ ہیں کہ وہ شمالی کوریا میں قید امریکی کینیتھ بئی کی رہائی کے لیے کچھ نہیں کر سکے۔

مسٹر بئی شمالی کوریا میں قید ہیں اور اُنھیں حکومت مخالف اقدام کے الزام پر 15 سال قید سنائی گئی تھی۔

روڈمین نے امریکی نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن کے سابق کھلاڑیوں کے ہمراہ شمالی کوریا کا دورہ ’ذاتی حیثیت‘ میں کیا جسے ’باسکٹ بال ڈپلومیسی‘ کہا جاتا ہے لیکن امریکہ میں عمومی طور پر اسے ہدف تنقید بنایا گیا۔

تاہم ڈینس روڈ مین اپنے اس دورے کو دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ شمالی کوریا سے راستے کھولے رکھنے کی ایک کوشش ہے۔

سابق باسکٹ بال کھلاڑی کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما سے سیاست کا معاملہ اُٹھانا اُن کا کام نہیں۔ روڈمین کم جونگ اُن کو ایک ’’اچھا انسان‘‘ اور دوست قرار دیتے ہیں۔

امریکہ محکمہ خارجہ اور وائٹ ہاؤس کے عہدیدار یہ کہتے ہیں کہ روڈمین کا دورہ مدد گار ثابت نہیں ہوا اور نا ہی امریکہ نے اس کی منظوری دی۔

کینیتھ بئی کی والدہ ماؤگھی بئی نے گزشتہ ہفتے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا تھا کہ اُنھیں امید تھی کہ روڈمین شمالی کوریا کے لیڈر (کم جونگ اُن) سے ملاقات میں ان کے بیٹے کا ذکر کریں گے۔ ’’کیونکہ روڈ مین خود کہہ چکے ہیں کہ وہ کم کے قریبی دوست ہیں۔‘‘
XS
SM
MD
LG