رسائی کے لنکس

logo-print

سات امریکی ریاستوں میں ہم جنس شادیوں کی اجازت


سات امریکی ریاستوں میں ہم جنس شادیوں کی اجازت

امریکہ کی شمال مغربی ریاست واشنگٹن کے گورنر نے ہم جنس شادیوں کی اجازت کے قانون پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد ان امریکی ریاستوں کی تعداد سات ہوگئی ہے جہاں ہم جنس پرستوں کی باہم شادیوں کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔

ریاست واشنگٹن کی ڈیموکریٹ گورنر کرسٹین گریگوہار نے پیر کو ریاست کے صدر مقام اولمپیا میں واقع اپنے دفتر میں قانون پر دستخط کیے جسے گزشتہ ہفتے ریاستی اسمبلی نے منظور کیا تھا۔

اس موقع پر موجود بل کے پرجوش حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے گورنر گریگوہار نے مسودہ قانون کی منظوری کو ریاست کے لیے ایک تاریخی لمحہ اور ہم جنس پرست جوڑوں کو یکساں حقوق دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

مذکورہ قانون کا نفاذ جون سے ہوگا تاہم اگر مذہبی قدامت پسندنومبر میں ہونے والے عام انتخابات کے موقع پر قانون کی منسوخی کے لیے ریفرنڈم کا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب ہوگئے تو اس کے نفاذ میں مزید تاخیر ہوسکتی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کیلی فورنیا کی ایک عدالت نے ریاست میں ہم جنس شادیوں پر پابندی کے حق میں 2008ء میں ہونے والے ریفرنڈم کو غیر آئینی قرار دے دیا تھا۔

نیویارک، کنیک ٹیکٹ، آئیووا، میساچوسٹس، نیو ہیمپشائر اور ورمونٹ کے بعد واشنگٹن ہم جنس شادیوں کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے والی امریکہ کی ساتویں ریاست بن گئی ہے۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں بھی ہم جنس پرستوں کو باہم شادیوں کی اجازت ہے۔

دریں اثنا امریکی ریاست نیو جرسی کی سینیٹ کے اراکین نے پیر کو ہونے والی رائے شماری میں ہم جنس شادیوں کا قانون 16 کے مقابلے میں 24 ووٹ سے منظور کرلیا۔

امکان ہے کہ ریاستی اسمبلی بھی مذکورہ قانون کے رواں ہفتے کے اختتام تک منظوری دیدے گی۔ تاہم ریاست کے ری پبلکن گورنر کرس کرسٹی پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ اگر یہ قانون اسمبلی سے منظور ہوکر ان تک پہنچا تو وہ اسے ویٹو کردیں گے۔

XS
SM
MD
LG