رسائی کے لنکس

امریکی سینٹ کوم کے سربراہ کی پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں


امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے ایک وفد کے ہمراہ دو روزہ دورہ پاکستان میں ملک کی سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق ہفتہ کو جنرل ووٹل نے اسلام آباد میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی جس میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات، باہمی تعاون اور علاقائی صورت حا ل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ خواجہ آصف، وزیر دفاع خرم دستگیر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

قبل ازیں جمعہ کو جنرل ووٹل نے اپنے وفد کے ہمراہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے راولپنڈی میں فوج کے صدر دفتر میں ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے اُمور خاص طور پر افغانستان میں سلامتی کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

امریکی سفارتخانے سے ہفتہ کو جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ امریکی جنرل نے پاکستانی عہدیداروں سے ملاقاتوں میں انسداد دہشت گردی میں تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی سرزمین اس کے ہمسایوں کے خلاف کسی بھی طرح کی تخریب کاری کے لیے استعمال نہ ہو۔

حالیہ ہفتوں میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی اور عسکری رابطوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہ رابطے ایک ایسے وقت ہوئے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ افغانستان اور خطے سے متعلق اپنی پالیسی کا اعلان کرنے والی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کی امداد میں کٹوتی یا اسے روکنے کے معاملے پر بھی غور کر رہی ہے۔ تاہم ابھی تک اس بارے میں پالیسی سامنے نہیں آئی ہے۔

امریکی عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ پاکستان نے حقانی نیٹ ورک یا دیگر افغان طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی نہیں کی ہے جن کے ٹھکانے مبینہ طور پر پاکستان میں ہیں۔

تاہم اسلام آباد کا موقف رہا ہے کہ وہ تمام دہشت گردوں بشمول حقانی نیٹ ورک کے خلاف بلاتفریق کارروائی کر رہا ہے۔

دفاعی امور کے تجزیہ کار طلعت مسعود کہتے ہیں اگر پاکستان کی امداد میں کوئی کٹوتی ہوتی ہے یا اسے روک دیا جاتا ہے تو پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر اس کا منفی اثر ہو گا ۔

ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ،" لیکن یہ نہیں ہو گا کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں مزید تلخی آئے لیکن کوشش تو یہ ہو گی کہ (تعلقات کو ) بہتری کی طرف لے جانے کی کوشش کی جائے باوجود اس کے کہ کافی اختلافات بھی ہیں لیکن امریکہ کو یہ علم ہے کہ پاکستان کی اہمیت رہے گی خاص طور پر اس وقت جب افغانستان کے حالات نازک ہیں۔"

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی "آئی ایس پی آر" کے مطابق جنرل باجوہ نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات خصوصاً سکیورٹی کے شعبے میں تعاون اور علاقائی سلامتی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو نہایت اہمیت دیتا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان امداد سے زیادہ اس بات کا متمنی ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے علاقائی امن واستحکام کے لیے اس کی قربانیوں کا اعتراف کیا جائے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ نے پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں سکیورٹی کی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے افغان سکیورٹی فورسز اور امریکہ کی زیر کمانڈ ریزولیوٹ سپورٹ مشن کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

امریکی سفارتخانے کے بیان کے مطابق امریکی وفد کے لیے شمالی وزیرستان کے دورے کا اہتمام بھی کیا گیا۔

تجزیہ کار طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے مشترکہ مفادات کے لیے ضروری ہیں کہ ان کے باہمی تعلقات پائیدار بنیادوں پر استوار رہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG