رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی سینٹرل کمان کے کمانڈر کی پاکستانی عسکری قیادت سے ملاقات


فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں پاکستانی وفد اور جنرل جوزف ووٹل کی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے دو طرفہ اُمور خاص طور افغانستان میں سلامتی کی صورت پر غور کیا گیا۔

امریکی سینٹرل کمان کے کمانڈر جنرل جوزف ایل ووٹل نے پیر کو راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے صدر دفتر کا دورہ کیا اور دوطرفہ عسکری اُمور پر تبادلہ خیال کیا۔

فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں پاکستانی وفد اور جنرل جوزف ایل ووٹل کی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے دو طرفہ اُمور خاص طور افغانستان میں سلامتی کی صورتحال پر غور کیا گیا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق امریکی جنرل نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

دریں اثنا جنرل جوزف ووٹل نے پاکستان کے سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) محمد عالم خٹک سے بھی ملاقات کی۔

وزارت دفاع سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اس ملاقات میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعاون بڑھانے پر غور کیا گیا۔

ملاقات میں دو طرفہ مفادات اور دفاعی تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

بیان کے مطابق سیکرٹری دفاع نے کہا کہ پاکستان چھ عشروں پر محیط امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔

ملاقات کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون بڑھانے کے علاوہ روایتی دفاعی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی تبالہ خیال کیا گیا۔

ایف 16 طیاروں کی خریداری کے معاملے پر بات کرتے ہوئے سیکرٹری دفاع نے بتایا کہ یہ جہاز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت ضروری ہیں-

امریکی جنرل نے یہ دورہ ایسے وقت کیا جب رواں ماہ ہی امریکہ نے پاکستان کو آگاہ کیا تھا کہ کانگریس کے بعض اراکین کی طرف سے اعتراض کے بعد اب پاکستان کو آٹھ ایف 16 لڑاکا طیاروں کی خریداری کے لیے 43 کروڑ ڈالر کی اعانت فراہم نہیں کی جائے گی اور اگر اسے یہ طیارے خریدنے ہیں تو اسے اپنے وسائل استعمال کرنا ہوں گے۔

امریکی کانگریس کے ایک پینل نے پاکستان کے لیے 45 کروڑ ڈالر کی امداد کو دہشت گرد گروپ "حقانی نیٹ ورک" کے خلاف کارروائی سے مشروط کرنے کی توثیق کی ہے۔

امریکی کانگریس کے بعض ارکان کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ پاکستان صرف اپنے لیے خطرہ تصور کیے جانے والے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے اور وہ حقانی نیٹ ورک کی طرف سے مبینہ طور پر چشم پوشی کر رہا ہے۔

تاہم پاکستان کا موقف ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کے عزم پر قائم ہے اور اس نے اپنے ہاں دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ اس کے بقول حقانی نیٹ ورک افغان علاقوں میں ہے لہذا ان کے خلاف کارروائی اس ملک کو کرنی چاہیئے۔

پاکستانی فوج نے جون 2014ء میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا تھا جس میں حکام کے بقول 3500 کے لگ بھگ ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کو ہلاک اور ان کے سیکڑوں ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG